Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

سینیٹ کا ہنگامہ خیز اجلاس، 27ویں آئینی ترمیم منظوری کے مرحلے میں داخل

جس کا نمک کھایا جاتا ہے اس سے وافاداری کی جاتی ہے۔سینیٹر دنیش کمار
سینیٹ کا ہنگامہ خیز اجلاس، 27ویں آئینی ترمیم منظوری کے مرحلے میں داخل

اسلام آباد: پاکستان کی سیاسی تاریخ کے ایک نازک لمحے میں ایوان بالا کا اجلاس جاری ہے جہاں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کیلیے مختلف رہنما اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں اور حکومت نے واضح اعلان کیا ہے کہ ان کے پاس سینیٹ میں مطلوبہ نمبرز موجود ہیں جو اس بل کو آئین میں شامل کرنے کی راہ ہموار کر دیں گے۔ یہ اجلاس سینیٹر منظور احمد کی صدارت میں پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہو رہا ہے جہاں فوجی تقرریوں، وفاقی آئینی عدالت کے قیام اور صدر کے قانونی تحفظ جیسے حساس امور پر بحث جاری ہے اور حکومت کا دعویٰ ہے کہ کوئی ڈیڈ لاک کی صورتحال نہیں ہے بلکہ یہ سب مشاورت کا حصہ ہے جو قدرتی طور پر وقت طلب ہوتا ہے جیسا کہ 26ویں ترمیم کے دوران بھی شام تک جاری رہا تھا۔ یہ منظر نہ صرف پارلیمانی عمل کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتا ہے بلکہ سیاسی اتحاد کی طاقت اور اپوزیشن کی خاموش مزاحمت کی جھلک بھی دکھاتا ہے جو ملک کی آئینی تعمیر نو کی سمت کو متعین کرنے والا ہے۔

اجلاس کے آغاز سے پہلے پارلیمنٹ ہاؤس میں گھنٹیاں بجائی گئیں جو اراکین کی توجہ کی طرف بلاتی ہیں اور اس موقع پر سینیٹ کے اراکین کے اعزاز میں ناشتہ کا اہتمام کیا گیا جو سیاسی اجلاسوں کی روایت کا حصہ ہے اور اراکین کو توانائی دینے کا ذریعہ بنتا ہے۔ ناشتہ مکمل کرنے کے بعد اراکین ایوان کی طرف روانہ ہوئے جہاں سینیٹر دنیش کمار نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے مینیو کی تفصیلات شیئر کیں کہ اس میں انڈے، پراٹھے، حلوہ اور کروسینٹ شامل تھے جو ایک ہلکے پھلکے لمحے کی یاد دلاتے ہیں مگر جب صحافی نے پوچھا کہ کیا ناشتہ کرنے کے بعد تمام اراکین ووٹ دیں گے تو انہوں نے دلچسپ جواب دیا کہ جس کا نمک کھایا جاتا ہے اس سے وافاداری کی جاتی ہے جو سیاسی وفاداری کی ایک تلخ حقیقت کو چھوتا ہے اور اجلاس کے ماحول کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے اور سینیٹ میں ہمارا نمبرز کا حساب مکمل ہے جس کے تحت جیسے ہی مطلوبہ ووٹرز پہنچ جائیں گے فوری طور پر ووٹنگ کا عمل شروع کر دیا جائے گا جو حکومت کی پراعتماد حکمت عملی کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشاورت کا یہ سلسلہ ہمیشہ ایسے ہی چلتا ہے اور اس میں قدرتی طور پر کچھ وقت لگ جاتا ہے جیسا کہ 26ویں ترمیم کے کیس میں شام کے وقت تک ووٹنگ ہوئی تھی جو اس عمل کی روایتی طوالت کو یاد دلاتا ہے اور اراکین کو بحث کی آزادی دیتا ہے۔ ڈپٹی وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار نے بھی پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کی جہاں ان سے پوچھا گیا کہ کیا نمبرز پورے ہیں تو انہوں نے پرامید انداز میں جواب دیا کہ جی انشاء اللہ جو ان کی امید کی عکاسی کرتا ہے اور جب نیشنل پارٹی کی حمایت کے بارے میں سوال اٹھا تو انہوں نے کہا کہ ووٹنگ کے وقت سب واضح ہو جائے گا جو سیاسی خفیہیت کی ایک جھلک ہے۔

پیپلز پارٹی کے سینیٹر شہادت اعوان نے اجلاس کے دوران اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ آئینی عدالت کا قیام وقت کی ایک بڑی ضرورت ہے جو عدالتی نظام کو مزید مؤثر اور متوازن بنائے گا اور ملٹری کمانڈ کے معاملے پر طویل مشاورت کی گئی ہے جو اس ترمیم کی حساسیت کو اجاگر کرتی ہے اور اتحادی جماعتوں کی شمولیت کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ یہ بحثیں نہ صرف ترمیم کی شقوں پر روشنی ڈالتی ہیں بلکہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ فوجی عہدوں کی تاحیات مراعات اور وفاقی عدالت کے اختیارات جیسے موضوعات پر پارلیمانی سطح پر کس قدر سنجیدگی سے غور ہو رہا ہے جو ملک کی آئینی ساخت کو ایک نئی شکل دینے کی طرف گامزن ہے۔

گزشتہ روز سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کی شق وار متفقہ منظوری دے دی تھی جو اس اجلاس کی بنیاد ہے اور کمیٹی روم نمبر 5 میں چیئرمین فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت منعقد ہونے والے اس اجلاس میں تمام اہم شقوں پر تفصیلی بحث ہوئی تھی جس کے نتیجے میں مسودہ حتمی شکل اختیار کر گیا اور اب یہ سینیٹ کی منظوری کا منتظر ہے جو اس ترمیم کو قانونی جواز دے گا۔

 27ویں آئینی ترمیم کی سینیٹ منظوری اور اس کے سیاسی دور رس اثرات

یہ اجلاس پاکستان کی آئینی سیاست میں ایک اہم مرحلہ ہے جو حکومت کی نمبرز پر گرفت کو ظاہر کرتا ہے مگر مشاورت کی طوالت اور نیشنل پارٹی جیسی جماعتوں کی حمایت کی خفیہیت سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اتحاد کی بنیادوں میں کچھ لچک ابھی باقی ہے جو ترمیم کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے۔ ایک طرف تو وزیر قانون کا دعویٰ کہ ڈیڈ لاک نہیں ہے فوج کی تقرریوں اور وفاقی عدالت کے قیام کو استحکام دے گا مگر دوسری طرف سینیٹر اعوان کی بات کہ ملٹری کمانڈ پر طویل مشاورت ضروری تھی یہ اشارہ دیتی ہے کہ یہ تبدیلیاں فوج کی بالادستی کو بڑھا سکتی ہیں جو جمہوریت کے لیے چیلنج ہے۔ 26ویں ترمیم کی طرح شام تک ووٹنگ کا امکان سیاسی دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے اور ناشتہ جیسے ہلکے لمحات کے باوجود وفاداری کا سوال سیاسی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے جو اس ترمیم کو متنازع بناتا ہے۔ مجموعی طور پر یہ منظوری استحکام کی طرف قدم ہے مگر اس کی کامیابی اپوزیشن کی خاموشی اور صوبائی حمایت پر منحصر ہوگی ورنہ یہ سیاسی بحران کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔

عوامی رائے سوشل میڈیا اور نیوز فورمز پر ایک شدید طوفان کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں حکومت کے حامی اسے عدالتی اصلاحات اور فوجی استحکام کی جیت سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وفاقی عدالت کیسز کی تیز سماعت لائے گی اور نمبرز پورے ہونے سے ترمیم منظور ہو جائے گی جبکہ اپوزیشن حامی خاص طور پر پی ٹی آئی کے لوگ اسے آئین کی توہین اور صوبائی حقوق کی لوٹ قرار دے رہے ہیں اور احتجاج کی کال دے رہے ہیں کہ یہ ترمیم فوج کی بالادستی بڑھائے گی اور 18ویں ترمیم کو ختم کرے گی۔ سینیٹ اراکین کی وفاداری پر تبصرے بھی وائرل ہو رہے ہیں جہاں لوگ ناشتہ کا ذکر کرتے ہوئے مذاق اڑا رہے ہیں مگر مجموعی طور پر عوام میں خوف اور امید کا ملاجلا جذبات ہیں جو سیاسی استحکام کی ضرورت کو واضح کر رہے ہیں۔

یہ آئینی ترمیم ملک کے سیاسی نظام میں کیا تبدیلیاں لائے گی؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں