Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

پاکستان میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا، زرعی پانی کے غیر مؤثر استعمال میں دنیا کے 6 ممالک سرفہرست

بارانی کاشتکاری میں تقریباً 25 فیصد جبکہ نہری آبپاشی میں ایک تہائی پانی فضول خرچ ہو رہا ہے
پاکستان میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا، زرعی پانی کے غیر مؤثر استعمال میں دنیا کے 6 ممالک سرفہرست

اسلام آباد: زمین پر زندگی کا سب سے قیمتی عنصر پانی اب ایک عالمی خطرے کی زد میں ہے جہاں زراعت کے شعبے میں اس کی بے جا تلفی نے خشک سالی کو مزید خوفناک بنا دیا ہے۔ عالمی بینک کی پہلی ‘گلوبل واٹر مانیٹرنگ رپورٹ’ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان ان چھ ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں زرعی سرگرمیوں میں پانی کا استعمال انتہائی غیر موثر طریقے سے ہو رہا ہے جس سے ہر سال دنیا بھر میں 324 ارب مکعب میٹر تازہ پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ یہ مقدار اتنی زیادہ ہے کہ اس سے 28 کروڑ لوگوں کی سال بھر کی ضروریات کو پورا کیا جا سکتا ہے اور یہ نقصان بڑھتی ہوئی قحط سالی کی وجہ سے مزید سنگین ہو رہا ہے جو انسانی تہذیب کے لیے ایک خاموش تباہی کی شکل اختیار کر چکا ہے

رپورٹ کی تفصیلات سے پتہ چلتا ہے کہ بارانی کاشتکاری میں تقریباً 25 فیصد جبکہ نہری آبپاشی میں ایک تہائی پانی فضول خرچ ہو رہا ہے اور یہ ضیاع بالخصوص ان علاقوں میں ہو رہا ہے جہاں میٹھے پانی کے ذخائر تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔ یہ بحران زدہ زونز بنیادی طور پر مغربی ایشیا، مشرقی یورپ اور شمالی افریقہ کے خطوں میں پھیلے ہوئے ہیں جہاں پانی کی کمی پہلے ہی ایک وجودی خطرہ بن چکی ہے۔ قومی سطح پر دیکھا جائے تو الجزائر، کمبوڈیا، میکسیکو، پاکستان، تھائی لینڈ، تیونس اور رومانیہ ایسے ممالک ہیں جہاں خشک سالی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے ساتھ زرعی پانی کی سب سے زیادہ غیر موثر کھپت نوٹ کی گئی ہے جو ان معیشتوں کی بنیاد کو ہلا کر رکھ رہی ہے۔

اس رپورٹ کی تیاری کے لیے گزشتہ دو عشروں کے سیٹلائٹ اعداد و شمار کو جدید ماڈلنگ ٹیکنالوجیز کے ساتھ ملا کر تجزیہ کیا گیا ہے تاکہ زمینی اور آبی وسائل کے انتظامی فیصلوں کے پانی کی دستیابی پر اثرات کو واضح کیا جا سکے۔ اس عرصے میں عالمی سطح پر پانی کی ہائی ڈیمانڈ والی فصلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے اور خشک سالی زدہ 37 ممالک نے ایسی فصلوں کی طرف رخ کیا ہے جو پانی کی زیادہ مقدار طلب کرتی ہیں جن میں سے 22 ممالک خشک یا نیم خشک علاقوں میں واقع ہیں۔ یہ رجحان پانی کے غیر موثر استعمال کو ملا کر ان علاقوں میں طلب کو آسمان چھو رہا ہے جو پہلے سے ہی پانی کی شدید قلت کا شکار ہیں اور یہ صورتحال غذائی تحفظ کو بری طرح متاثر کر رہی ہے۔

مزید گہرائی میں جائیں تو خشک سالی والے علاقوں میں آبپاشی کے نظام میں دو تہائی سے زیادہ پانی کا ضیاع ان فصلوں کی کاشت سے منسلک ہے جو پانی کی بھاری مقدار مانگتی ہیں جیسے چاول، گندم، کپاس، مکئی یا گنے کی پیداوار۔ یہ اعداد و شمار زرعی پالیسی سازوں کے لیے ایک واضح پیغام ہیں کہ کم پانی استعمال کرنے والی فصلوں کو ترجیح دینا اور پانی کے پائیدار استعمال کو فروغ دینا اب ناگزیر ہو چکا ہے تاکہ مستقبل کی نسلیں اس بحران سے محفوظ رہ سکیں۔

رپورٹ نے یہ بھی روشنی ڈالی ہے کہ دنیا بھر میں ہر سال 324 ارب مکعب میٹر تازہ پانی کا نقصان ہو رہا ہے جو غیر ذمہ دارانہ انسانی سرگرمیوں جیسے پانی کی غلط قیمتوں کا تعین، ناقص انتظامی ڈھانچہ، جنگلات کی بے تحاشہ کٹائی اور آبی ذخائر کی تباہی کی وجہ سے جنم لے رہا ہے۔ سن 2000 کے بعد سے عالمی پانی کی کھپت میں 25 فیصد کا اضافہ نوٹ کیا گیا ہے اور اس میں سے ایک تہائی حصہ ان علاقوں میں ہوا ہے جو پہلے ہی قحط سالی کی لپیٹ میں ہیں جو پانی کے وسائل پر دباؤ کو کئی گنا بڑھا رہا ہے اور عالمی غذائی زنجیر کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

پانی کی تلفی کا بحران اور پاکستان کی زرعی معیشت پر اثرات

یہ رپورٹ نہ صرف ایک اعداد و شمار کا مجموعہ ہے بلکہ ایک عالمی الارم ہے جو بتاتا ہے کہ زراعت میں پانی کی غیر موثر کھپت خشک سالی کو ایک ناقابل تلافی تباہی میں تبدیل کر رہی ہے خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک میں جہاں معیشت کا بڑا حصہ زرعی پیداوار پر منحصر ہے۔ ایک طرف تو سیٹلائٹ ٹیکنالوجی اور ماڈلنگ نے مسائل کی جڑ کو بے نقاب کیا ہے مگر دوسری طرف یہ واضح ہے کہ پالیسیوں میں فوری تبدیلی کے بغیر یہ بحران غذائی قلت اور معاشی عدم استحکام کو جنم دے گا۔ پاکستان کے لیے یہ خاص طور پر تشویش ناک ہے کیونکہ یہاں پانی کی ہائی ڈیمانڈ فصلوں کی طرف رجحان بڑھ رہا ہے جو نہ صرف مقامی وسائل کو ختم کر رہا ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو بھی شدید بنا رہا ہے۔ حل کی طرف قدم اٹھانے کے لیے کم پانی والی فصلوں کی حوصلہ افزائی، جدید آبپاشی ٹیکنالوجیز کا نفاذ اور جنگلات کی بحالی ضروری ہے ورنہ یہ بحران جنوبی ایشیا کی سماجی ساخت کو ہلا کر رکھ دے گا۔

عوامی رائے میں سوشل میڈیا اور نیوز پلیٹ فارمز پر ایک شدید غم و غصے کی لہر ہے جہاں پاکستانی صارفین اس رپورٹ کو حکومت کی ناکامی کا ثبوت قرار دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ زرعی پالیسیوں میں اصلاحات نہ لائے گئے تو کسانوں کی زندگیاں مزید اجیرن ہو جائیں گی۔ کچھ لوگ عالمی بینک کی تجاویز پر عمل درآمد کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ دیگر خشک سالی زدہ علاقوں کے باشندے پانی کی منصفانہ تقسیم اور جدید ٹیکنالوجی کی فراہمی پر زور دے رہے ہیں۔ مجموعی طور پر عوام میں خوف اور امید کا ملاجلا جذبہ ہے کہ اگر اب اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں پانی کی ایک بوند کے لیے ترس جائیں گی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں