Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

پاکستان اور افغان طالبان میں جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق، مشترکہ اعلامیہ جاری

ترکیہ کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے نے اس پیشرفت کو خطے کے امن و استحکام کی طرف اہم قدم قرار دیا ہے
پاکستان اور افغان طالبان میں جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق، مشترکہ اعلامیہ جاری

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کے سائے میں ایک نئی امید کی کرن نمودار ہوئی ہے، جہاں دونوں فریقین نے استنبول میں ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کے بعد جنگ بندی کو جاری رکھنے کا عہد کیا ہے۔ ترکیہ کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ مشترکہ اعلامیے نے اس پیشرفت کو خطے کے امن و استحکام کی طرف اہم قدم قرار دیا ہے، جو دوحہ میں 18 اور 19 اکتوبر کو طے پانے والے عارضی جنگ بندی معاہدے کو مضبوط بنانے کی کوشش ہے۔ اعلامیے کے مطابق، فریقین نے ایک نگرانی اور تصدیقی نظام کے قیام پر اتفاق کیا ہے جو جنگ بندی کی پابندی کو یقینی بنائے گا اور کسی بھی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کرے گا، جبکہ اس کے قواعد 6 نومبر سے استنبول میں ہونے والے مذاکرات میں طے ہوں گے۔

یہ مذاکرات، جو 25 سے 30 اکتوبر تک استنبول میں جاری رہے، خطے میں پائیدار امن کی بحالی کی طرف ایک اہم پیش رفت ہیں۔ ترکیہ کی درخواست پر پاکستانی وفد نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر رضامندی ظاہر کی، جو ابتدا میں نتیجہ خیز نہ ہونے پر واپسی کی تیاری کر رہا تھا۔ ترکیہ کی میزبانی میں یہ مذاکرات خطے کی سلامتی اور دوطرفہ تعلقات کی بحالی کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتے ہیں، جو حالیہ سرحدی تصادم کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش ہے۔

استنبول مذاکرات

ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں استنبول میں منعقد ہونے والے مذاکرات نے پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان دوحہ کے جنگ بندی معاہدے کو مستحکم کرنے کی بنیاد رکھی۔ 25 سے 30 اکتوبر تک جاری رہنے والے ان مذاکرات نے دونوں فریقوں کو جنگ بندی کے تسلسل پر متفق کیا، جبکہ 6 نومبر سے شروع ہونے والے اگلے اجلاس میں اس کے نفاذ کے قواعد و ضوابط طے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق، ایک مشترکہ نگرانی اور تصدیقی نظام تشکیل دیا جائے گا جو جنگ بندی کی پابندی کو یقینی بنائے گا اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ دار فریق پر جرمانہ عائد کرے گا۔

یہ نظام خطے میں اعتماد کی بحالی اور سرحدی تنازعات کو روکنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ ترکیہ اور قطر نے دونوں فریقوں کے تعمیری کردار کی تعریف کی اور وعدہ کیا کہ وہ خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ مذاکرات کے دوران پاکستانی وفد نے ترکیہ کی درخواست پر استنبول میں قیام کیا، جو اس کی میزبانی کو نتیجہ خیز بنانے کی کوشش تھی، جبکہ ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی وفد ابتدا میں مذاکرات کے تعطل کے بعد واپسی کی تیاری کر رہا تھا۔

سرحدی کشیدگی اور دوحہ معاہدہ

یہ مذاکرات اکتوبر کے اوائل میں سرحدی تصادم کے بعد شروع ہوئے، جب پاکستان نے مبینہ طور پر افغانستان میں فضائی حملے کیے، جنہیں طالبان نے شہریوں پر حملہ قرار دیا، جبکہ پاکستان نے انہیں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے بتایا۔ اس کے جواب میں طالبان نے پاکستانی فوجی چوکیوں پر حملے کیے، جس سے دونوں طرف ہلاکتیں ہوئیں۔ قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں دوحہ میں 19 اکتوبر کو عارضی جنگ بندی طے پائی، جو اب استنبول مذاکرات کے ذریعے مضبوط کی جا رہی ہے۔ ترکیہ کی درخواست پر پاکستانی وفد کی مذاکرات میں واپسی نے اس عمل کو نئی زندگی دی، جو خطے کی سلامتی کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے۔

عوامی رائے

اس اعلان نے سوشل میڈیا پر امن کی امید کو زندہ کیا ہے، جہاں پاکستانی اور عالمی صارفین نے جنگ بندی کے تسلسل کو سراہا ہے۔ ایکس پر #PakAfghanCeasefire ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں ایک صارف نے لکھا "استنبول مذاکرات سے جنگ بندی کی امید، پاکستان اور افغانستان امن کی طرف!” دوسرے نے کہا”ترکیہ اور قطر کی ثالثی قابل تعریف، سرحدی امن کے لیے دعائیں!”

کچھ صارفین نے خدشات کا اظہار کیا "جنگ بندی اچھی ہے، مگر دہشت گردی پر کنٹرول کے لیے ٹھوس اقدامات چاہئیں!” مجموعی طور پر، عوامی جذبات امید اور احتیاط کی آمیزش ہیں، جو مذاکرات کی کامیابی اور خطے کی سلامتی کی توقع رکھتے ہیں۔

پاکستان اور افغان طالبان کی جنگ بندی کے تسلسل پر اتفاق خطے میں امن کی بحالی کی طرف ایک اہم پیش رفت ہے، جو دوحہ معاہدے کو مضبوط کرتی ہے اور استنبول مذاکرات کے ذریعے نگرانی کے نظام کی بنیاد رکھتی ہے۔ ترکیہ اور قطر کی ثالثی نے دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کلیدی کردار ادا کیا، جو سرحدی کشیدگی اور دہشت گردی کے الزامات کے بعد ایک مشکل مرحلے میں ہوا۔ پاکستانی وفد کی واپسی اور جنگ بندی کے تسلسل پر اتفاق خطے کے استحکام کی طرف ایک مثبت اشارہ ہے، مگر یہ عارضی معاہدہ ہے جو ٹھوس عمل درآمد پر منحصر ہے۔ عوامی سطح پر، امید غالب ہے جو مذاکرات کی کامیابی کی دعا گو ہے، مگر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ مجموعی طور پر، یہ مذاکرات خطے کی سلامتی کی طرف ایک اہم قدم ہیں، جو 6 نومبر کے اجلاس سے مزید واضح ہوں گے، اور ترکیہ و قطر کی ثالثی خطے کی امن کی امید کو زندہ رکھتی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں