اسلام آباد : پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے استنبول میں ہونے والے مذاکرات کے دوران افغان وفد کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے سراسر جھوٹ اور بے بنیاد قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں کو افغان سرزمین پر پناہ گزینوں کا درجہ دینا نہ صرف مضحکہ خیز بلکہ خطرناک بھی ہے، کیونکہ یہ عناصر تباہ کن اسلحے سے آراستہ ہو کر پاکستان میں داخل ہو رہے ہیں۔
وزیر دفاع نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری کردہ اپنے بیان میں افغان وفد کے اس دعوے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ مذکورہ دہشت گرد اپنے گھروں کی طرف لوٹ رہے ہیں۔ انہوں نے استفسار کیا کہ آخر وہ کون سے پناہ گزین ہوتے ہیں جو اپنی واپسی کے لیے جدید اور مہلک ہتھیاروں کا سہارا لیتے ہیں؟ یہ سوال نہ صرف افغان موقف کی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے بلکہ علاقائی امن کے لیے سنگین خطرات کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔
خواجہ آصف نے مزید وضاحت کی کہ یہ افراد عام شہریوں کی طرح سڑکوں، بسوں یا دیگر ذرائع نقل و حمل کا استعمال نہیں کر رہے، بلکہ چوروں اور مجرموں کی طرح پہاڑی راستوں اور دشوار گزار علاقوں سے خفیہ طور پر سرحد پار کر رہے ہیں۔ ان کے بقول، یہ طرز عمل کسی پرامن واپسی کی بجائے سازشی منصوبہ بندی کی عکاسی کرتا ہے، جو پاکستان کی سلامتی کو براہ راست چیلنج کرتا ہے۔
افغان وفد کی نیت پر شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ایسے بیانات ان کی بے ایمانی اور عدم اخلاص کی واضح نشانی ہیں۔ یہ موقف نہ صرف حقیقت سے کوسوں دور ہے بلکہ دہشت گردی کے خلاف مشترکہ جدوجہد کو کمزور کرنے کی کوشش بھی لگتا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر افغان دھرتی کو پاکستان مخالف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا تو اسلام آباد ہر سطح پر اور ہر قیمت پر سخت ترین جواب دے گا، چاہے اس کے لیے کتنی ہی قربانیاں دینا پڑیں۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاک افغان سرحدی تنازعات اور دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ استنبول مذاکرات، جو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بحالی کی کوشش کا حصہ تھے، اب مزید پیچیدگیوں کا شکار ہو گئے ہیں۔ وزیر دفاع کا یہ سخت لہجہ پاکستان کی جانب سے صفر رواداری کی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جو سرحدوں کی حفاظت اور قومی خودمختاری کو مقدم رکھتی ہے۔
ایک نازک موڑ پر علاقائی کشیدگی
یہ بیان پاک افغان تعلقات میں ایک نئے تنازع کی ابتدا ثابت ہو سکتا ہے۔ افغان وفد کا پناہ گزینوں کا دعویٰ دراصل ٹی ٹی پی کے لیے نرم گوشہ رکھنے کی کوشش لگتا ہے، جو طالبان حکومت کی داخلی کمزوریوں کو ظاہر کرتا ہے۔ پاکستان کی طرف سے مسلسل الزامات کہ افغان سرزمین دہشت گردوں کی پناہ گاہ بن رہی ہے، اب عملی اقدامات کی شکل اختیار کر سکتے ہیں، جیسے سرحدی نگرانی میں اضافہ یا سفارتی دباؤ۔ یہ صورتحال نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو متاثر کرے گی بلکہ خطے کے امن پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے، خاص طور پر جب عالمی طاقتیں بھی اس معاملے میں دلچسپی رکھتی ہوں۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں وزیر دفاع کے بیان کو زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔ اکثر صارفین کا کہنا ہے کہ "افغانستان کو اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے ورنہ پاکستان کو اپنی حفاظت کے لیے سخت قدم اٹھانا ہوں گے”۔ کچھ لوگ طالبان حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ "یہ پناہ گزین نہیں، ہمارے دشمن ہیں”، جبکہ چند آوازیں مذاکرات کی بحالی پر زور دے رہی ہیں تاکہ خونریزی روکی جا سکے۔ مجموعی طور پر، عوام میں غم و غصے کے ساتھ قومی سلامتی کا جذبہ غالب ہے۔
اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں!
