Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

طالبان وفد نے پاکستان کے مکمل مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، ذرائع

افغان طالبان کا وفد، جو کابل انتظامیہ کی ہدایات پر عمل پیرا ہے، بار بار وطن سے رابطہ کر رہا ہے
طالبان وفد نے پاکستان کے مکمل مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، ذرائع

استنبول کی سفارتی راہداریوں میں پاک افغان امن مذاکرات کا تیسرا دور مشکلات کا شکار رہا، جہاں پاکستان کی جانب سے پیش کیے گئے منطقی اور مدلل مطالبات کو افغان طالبان کا وفد پوری طرح قبول کرنے سے گریزاں ہے۔ ترکیہ کی میزبانی اور قطر کی ثالثی میں جاری یہ بات چیت ڈیڈ لاک کا شکار ہو گئی ہے، اور ذرائع کا کہنا ہے کہ میزبان ممالک بھی پاکستان کی پوزیشن کی جائزداری تسلیم کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ افغان وفد خود بھی ان مطالبات کی منطق کو سمجھتا ہے، مگر کابل انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے، جو مذاکرات کو تعطل کا شکار بنا رہا ہے۔

یہ مذاکرات دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان دیرینہ مسائل جیسے سرحدی سلامتی، دہشت گردی کی روک تھام اور علاقائی استحکام پر مرکوز ہیں، جہاں پاکستان کی پوزیشن امن کے لیے ناگزیر سمجھی جا رہی ہے۔ تاہم، افغان وفد کی ہچکچاہٹ سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ کابل میں بعض عناصر ایک الگ ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں، جو مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں۔

استنبول مذاکرات کا تیسرا دن

ذرائع کے مطابق، پاکستانی وفد نے مذاکرات میں بارہا زور دیا کہ ان کے مطالبات نہ صرف منطقی ہیں بلکہ دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات کی حفاظت کے لیے ضروری ہیں۔ یہ مطالبات سرحدی پراکسیز کی روک تھام، دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات اور افغان سرزمین کے استعمال کی سختی سے ممانعت پر مبنی ہیں، جو میزبان ترکیہ اور قطر دونوں تسلیم کر رہے ہیں۔ ان ممالک نے افغان وفد کو بھی یہی سمجھایا کہ پاکستان کی پوزیشن معقول اور جائز ہے، جو علاقائی امن کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔

افغان طالبان کا وفد، جو کابل انتظامیہ کی ہدایات پر عمل پیرا ہے، بار بار وطن سے رابطہ کر رہا ہے، جو ان کی خودمختاری پر سوالات اٹھاتا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفد خود بھی ان مطالبات کی درستگی کو مانتا ہے، مگر کابل سے آنے والے احکامات انہیں روک رہے ہیں، جس سے مذاکرات کا تیسرا دن بھی بے نتیجہ گزر گیا۔ یہ صورتحال مذاکرات کو ایک تعطل کی طرف لے جا رہی ہے، جہاں پاکستانی وفد کی پوزیشن بدستور مضبوط اور امن کے لیے لازمی ہے۔

کابل کی مداخلت

ذرائع نے اشارہ کیا کہ کابل انتظامیہ سے کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں آ رہا، جو یہ تاثر دیتا ہے کہ وہاں بعض عناصر کسی دوسرے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ افغان وفد کی کابل سے مسلسل رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ فیصلہ سازی کا مرکز استنبول نہیں بلکہ کابل ہے، جو مذاکرات کی خودمختاری کو متاثر کر رہا ہے۔ میزبان ممالک کی حمایت کے باوجود افغان وفد کی ہچکچاہٹ سے یہ واضح ہے کہ مطالبات کی مکمل قبولیت ممکن نہیں، جو پاک افغان تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔

پاکستانی وفد نے اپنے مؤقف کو بار بار دہرایا کہ ان مطالبات کی قبولیت سب کے فائدے میں ہے، جو نہ صرف سرحدی تنازعات کو کم کرے گی بلکہ خطے میں استحکام بھی لائے گی۔ تاہم، افغان وفد کی پوزیشن سے لگتا ہے کہ کابل کی حکمت عملی مذاکرات کو طول دینے پر مرکوز ہے، جو امن عمل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن رہی ہے۔

مذاکرات کا پس منظر

یہ مذاکرات ترکیہ کی میزبانی اور قطر کی ثالثی میں جاری ہیں، جو دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ مسائل کو حل کرنے کی کوشش ہے۔ پہلے دو دنوں میں بھی مطالبات پر بحث ہوئی، مگر افغان وفد کی ہچکچاہٹ نے پیش رفت روک دی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ میزبان ممالک پاکستان کی پوزیشن کی حمایت کر رہے ہیں، جو ان مطالبات کی جائزداری کو تسلیم کرتے ہیں، مگر افغان وفد کی کابل سے انحصار مذاکرات کو تعطل کا شکار بنا رہا ہے۔ یہ صورتحال پاک افغان تعلقات کی نزاکت کو اجاگر کرتی ہے، جہاں امن کی راہ میں رکاوٹیں ابھی برقرار ہیں۔

عوامی رائے

اس خبر نے سوشل میڈیا پر فوری ردعمل جنم دیا، جہاں پاکستانی صارفین افغان وفد کی ہچکچاہٹ پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔ ٹوئٹر پر #PakAfghanTalks ٹرینڈ کر رہا ہے، جہاں لوگ کہتے ہیں کہ "پاکستان کے جائز مطالبات کو تسلیم نہ کرنا سرحدی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہا ہے!” ایک صارف نے لکھا: "میزبان بھی مانتے ہیں کہ مطالبات معقول ہیں، پھر کابل کیوں روک رہا ہے؟” دوسرے نے خدشہ ظاہر کیا: "یہ تعطل دہشت گردی کو ہوا دے گا، افغان وفد کابل کے غلام ہیں!”

افغان حلقوں میں بھی بحث جاری ہے، جہاں کچھ لوگ مطالبات کی منطق تسلیم کر رہے ہیں مگر کابل کی پالیسی کی تنقید کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر، عوامی جذبات مایوسی کے ہیں، اور لوگ فوری حل کی توقع رکھتے ہیں، خاص طور پر سرحدی علاقوں سے جہاں دہشت گردی کے اثرات براہ راست محسوس ہوتے ہیں۔

یہ مذاکرات کا تیسرا دور پاک افغان تعلقات کی گہری پیچیدگیوں کی عکاسی کرتا ہے، جہاں پاکستان کی منطقی مطالبات   جو سرحدی سلامتی اور دہشت گردی کی روک تھام پر مبنی ہیں – میزبان ممالک کی حمایت کے باوجود افغان وفد کی کابل سے انحصار کی وجہ سے تعطل کا شکار ہیں۔ افغان وفد کی ہچکچاہٹ کابل کی ممکنہ حکمت عملی کی نشاندہی کرتی ہے، جو مطالبات کی جزوی قبولیت پر اصرار کر رہا ہے، مگر یہ پاکستان کی پوزیشن کو کمزور نہیں کر سکتی جو امن کے لیے ناگزیر ہے۔ میزبانوں کی تسلیم کردہ جائزداری سے پاکستان کی سفارتی طاقت واضح ہوتی ہے، جو خطے میں استحکام کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ عوامی سطح پر، مایوسی غالب ہے، جو سرحدی مسائل کی شدت کو ظاہر کرتی ہے، مگر یہ تعطل اگر طول پکڑا تو علاقائی تناؤ بڑھ سکتا ہے۔ مجموعی طور پر، مذاکرات کی کامیابی افغان وفد کی خودمختاری پر منحصر ہے، جو کابل کی مداخلت سے آزاد ہو تو امن ممکن ہے۔

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں