لاہور:(خصوصی رپورٹ -حامد اقبال راؤ)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا سے امریکا کو 30 سے 50 ملین بیرل، یعنی تین سے پانچ کروڑ بیرل تیل حاصل ہوگا۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت ایک اچانک فوجی کارروائی کے بعد ممکن ہوئی، جس کے نتیجے میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اقتدار سے ہٹا دیے گئے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ حاصل ہونے والا تیل عالمی منڈی کی قیمت پر فروخت کیا جائے گا، جبکہ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی ان کی براہِ راست نگرانی میں استعمال کی جائے گی تاکہ اس کے فوائد امریکا اور وینزویلا، دونوں ممالک کے عوام تک پہنچ سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ 18 ماہ کے دوران امریکی آئل کمپنیاں وینزویلا میں دوبارہ اپنی سرگرمیاں شروع کر دیں گی، جس کے نتیجے میں ملک میں بھاری سرمایہ کاری متوقع ہے۔ تاہم توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وینزویلا کی ماضی کی تیل پیداوار بحال کرنے کے لیے کئی برس اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہوگی۔
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب وینزویلا کی سابق نائب صدر ڈیلسی روڈریگز نے عبوری صدر کے طور پر ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں، جبکہ سابق صدر نکولس مادورو کو منشیات اور اسلحہ اسمگلنگ کے الزامات کے تحت ایک کارروائی کے دوران گرفتار کر کے امریکا منتقل کر دیا گیا ہے۔
پیر کے روز گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا کا دوبارہ ایک مضبوط تیل پیدا کرنے والا ملک بننا امریکا کے لیے فائدہ مند ہوگا، کیونکہ اس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے میں مدد ملے گی۔
صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا کے بوسیدہ توانائی کے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہیں۔
واضح رہے کہ وینزویلا کے پاس تقریباً 303 ارب بیرل کے ثابت شدہ تیل کے ذخائر موجود ہیں، جو دنیا میں سب سے زیادہ سمجھے جاتے ہیں، تاہم ملک کی تیل پیداوار سن 2000 کی دہائی کے آغاز سے مسلسل زوال کا شکار ہے۔
ماہرین کی رائے
توانائی امور کے ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کا دعویٰ سیاسی اور اسٹریٹجک نوعیت کا ہے، تاہم عملی طور پر وینزویلا کی تیل صنعت کو بحال کرنا ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک کا توانائی ڈھانچہ کئی دہائیوں سے زوال کا شکار ہے اور مکمل بحالی کے لیے اربوں ڈالر اور کم از کم پانچ سے سات سال درکار ہو سکتے ہیں۔
بین الاقوامی تعلقات کے تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت کا مقصد نہ صرف امریکا کی توانائی ضروریات کو پورا کرنا ہے بلکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر اثرانداز ہو کر جغرافیائی سیاسی دباؤ بڑھانا بھی ہے۔ ان کے مطابق یہ قدم امریکا اور لاطینی امریکا کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے۔
ریاست اردو نیوز کے سینیئر تجزیہ نگار حامد اقبال راؤ کا تجزیہ کرتے ہوئے کہنا تھا کے صدر ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وینزویلا ایک غیر معمولی سیاسی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ نکولس مادورو کی گرفتاری اور عبوری حکومت کا قیام خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ امریکا کی جانب سے وینزویلا کے تیل ذخائر تک رسائی کا دعویٰ نہ صرف معاشی بلکہ اسٹریٹجک اہمیت بھی رکھتا ہے۔
وینزویلا کے پاس دنیا کے سب سے بڑے ثابت شدہ تیل ذخائر موجود ہیں، تاہم بدانتظامی، پابندیوں اور سرمایہ کاری کی کمی کے باعث پیداوار مسلسل کم ہوتی رہی ہے۔ اگر امریکی کمپنیاں واقعی وینزویلا میں دوبارہ کام شروع کرتی ہیں تو اس سے نہ صرف وینزویلا کی معیشت کو سہارا مل سکتا ہے بلکہ عالمی تیل مارکیٹ میں بھی نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی کے بعد وسائل تک رسائی کے دعوے بین الاقوامی قوانین اور خودمختاری کے اصولوں پر سوالات اٹھاتے ہیں، جو مستقبل میں سفارتی کشیدگی کا باعث بن سکتے ہیں۔
🗣️ اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں
کیا وینزویلا کے تیل ذخائر تک امریکی رسائی عالمی سیاست میں نیا موڑ ثابت ہوگی؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔
