Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

طالبان کے دعوؤں پر سوالیہ نشان، اقوام متحدہ نے افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی موجودگی کی تصدیق کر دی

رپورٹ میں تحریک طالبان پاکستان کو علاقائی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے
طالبان کے دعوؤں پر سوالیہ نشان، اقوام متحدہ نے افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس کی موجودگی کی تصدیق کر دی

لاہور (فہیم اختر)اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تازہ ترین رپورٹ نے طالبان کے اس مؤقف کو سختی سے رد کر دیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ افغان سرزمین دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہو رہی۔ رپورٹ میں طالبان کے بیانیے کو ناقابلِ اعتبار قرار دیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر علاقائی عدم استحکام کی علامت بنتا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی سولہویں رپورٹ کے مطابق طالبان مسلسل اس امر کی تردید کرتے آئے ہیں کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں یا وہاں سے سرحد پار حملوں کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، القاعدہ، ترکستان اسلامک پارٹی اور دیگر شدت پسند گروہ افغان سرزمین پر سرگرم ہیں۔ بعض تنظیموں نے افغانستان کو بیرونی حملوں کی منصوبہ بندی اور تنظیمی ڈھانچے کی بحالی کے لیے استعمال کیا ہے، جو خطے کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق القاعدہ کے طالبان کے ساتھ قریبی روابط برقرار ہیں اور مختلف افغان صوبوں میں اس کی موجودگی اب بھی موجود ہے، جہاں اسے تربیت، تنظیم نو اور اثرورسوخ بڑھانے کے مواقع میسر ہیں۔ دوسری جانب داعش خراسان کو طالبان کا سب سے بڑا مخالف قرار دیا گیا ہے، تاہم اس کے خلاف کارروائیوں کے باوجود یہ گروہ حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

رپورٹ میں تحریک طالبان پاکستان کو علاقائی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق یہ گروہ افغان محفوظ پناہ گاہوں سے پاکستان کے خلاف حملے کر رہا ہے اور سال 2025 کے دوران ان کارروائیوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اندازوں کے مطابق رواں سال اب تک پاکستان میں چھ سو سے زائد حملے کیے جا چکے ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ طالبان کے بعض دھڑوں میں ٹی ٹی پی کے لیے ہمدردی پائی جاتی ہے اور تاریخی روابط کے باعث اس گروہ کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کے امکانات کم دکھائی دیتے ہیں۔ اسی صورتحال کے نتیجے میں پاکستان اور افغانستان کے تعلقات شدید دباؤ کا شکار ہیں، جہاں سرحدی جھڑپیں، قیمتی جانوں کا ضیاع اور تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹیں معمول بنتی جا رہی ہیں۔

اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ افغانستان میں شدت پسند تنظیموں کی مسلسل موجودگی نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی ایک بڑھتا ہوا خطرہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔

ماہرین کی رائے

سیکیورٹی اور علاقائی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی یہ رپورٹ طالبان حکومت کے بیانیے کے لیے ایک سنجیدہ دھچکا ہے۔ معروف دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی کوئی نئی بات نہیں، تاہم اقوام متحدہ کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق عالمی سطح پر ایک اہم پیش رفت ہے۔

ماہرین کے مطابق تحریک طالبان پاکستان کی افغانستان میں محفوظ پناہ گاہیں خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر طالبان واقعی افغانستان کو دہشت گردی سے پاک ریاست بنانا چاہتے ہیں تو انہیں ٹی ٹی پی سمیت تمام شدت پسند گروہوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرنا ہوگی، بصورت دیگر ان پر عالمی دباؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔

بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ القاعدہ اور طالبان کے درمیان مبینہ روابط عالمی برادری کے خدشات کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر افغانستان میں القاعدہ کو تنظیم نو اور تربیت کے مواقع میسر رہتے ہیں تو یہ صورتحال مستقبل میں عالمی سلامتی کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتی ہے۔

کچھ ماہرین نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ داعش خراسان اگرچہ طالبان کی مخالف ہے، مگر اس کی مسلسل کارروائیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ طالبان کی داخلی سیکیورٹی کنٹرول کی صلاحیت محدود ہے۔ ان کے مطابق یہ کمزوری افغانستان کو دوبارہ عالمی شدت پسند تنظیموں کا مرکز بنا سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ نے افغانستان کی موجودہ صورتحال پر کئی بنیادی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ طالبان کا یہ دعویٰ کہ افغان سرزمین کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے استعمال میں نہیں، اب بین الاقوامی سطح پر کمزور پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ رپورٹ میں پیش کیے گئے شواہد اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ افغانستان ایک بار پھر علاقائی اور عالمی سلامتی کے لیے ایک حساس مرکز بن چکا ہے۔

تحریک طالبان پاکستان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں نہ صرف پاکستان کے اندر عدم استحکام کا باعث بن رہی ہیں بلکہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کو بھی شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔ سرحدی کشیدگی، جانی نقصان اور تجارتی رکاوٹیں اس صورتحال کا براہِ راست نتیجہ ہیں، جس سے دونوں ممالک کے عوام متاثر ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب القاعدہ کی مبینہ موجودگی اور طالبان کے ساتھ اس کے روابط عالمی طاقتوں کے لیے ایک تشویشناک اشارہ ہیں۔ یہی خدشات ماضی میں افغانستان کے خلاف عالمی مداخلت کا سبب بنے تھے، اور اگر حالات اسی سمت بڑھتے رہے تو افغانستان ایک بار پھر عالمی تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر طالبان واقعی بین الاقوامی قبولیت اور معاشی استحکام چاہتے ہیں تو انہیں محض بیانات پر اکتفا کرنے کے بجائے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح، شفاف اور مؤثر کارروائیاں ہی وہ راستہ ہیں جو افغانستان کو علاقائی عدم استحکام کی علامت بننے سے روک سکتی ہیں۔

مجموعی طور پر یہ رپورٹ اس امر کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی ایک سرحدوں سے ماورا مسئلہ ہے، اور اگر افغانستان میں شدت پسند نیٹ ورکس کو قابو نہ کیا گیا تو اس کے اثرات پورے خطے بلکہ دنیا بھر میں محسوس کیے جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں