Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

14 سال قید کی سزا کے بعد اہم سوال، فیض حمید کن سے معافی کی درخواست کر سکتے ہیں؟

ذرائع کے مطابق فیض حمید سب سے پہلے آرمی چیف سے سزا معافی کی درخواست کر سکتے ہیں
14 سال قید کی سزا کے بعد اہم سوال، فیض حمید کن سے معافی کی درخواست کر سکتے ہیں؟

اسلام آباد:سابق لیفٹیننٹ جنرل اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کو گزشتہ روز طویل قانونی کارروائی کے بعد 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائے جانے کے بعد یہ سوال شدت سے اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ اب وہ اپنی سزا کے خلاف کہاں اور کس سے درخواست کر سکتے ہیں۔

ملک کی سیاسی و عسکری فضا میں نمایاں مقام رکھنے والے اس کیس نے نہ صرف قانونی حلقوں بلکہ عوامی سطح پر بھی وسیع بحث کو جنم دیا ہے۔

سزا معافی یا اپیل 

ذرائع کے مطابق فیض حمید سب سے پہلے آرمی چیف سے سزا معافی کی درخواست کر سکتے ہیں۔
پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کی جانب سے سنائی گئی سزا کو عسکری سطح پر سب سے پہلے آرمی چیف ہی ریویو کرتے ہیں۔ اگر آرمی چیف سزا برقرار رکھیں یا معاف نہ کریں تو پھر ملزم کے لیے عدالتی راستے کھل جاتے ہیں۔

اس کے بعد فیض حمید ہائیکورٹ میں سزا کے خلاف اپیل دائر کر سکتے ہیں جہاں فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا پورا ریکارڈ، شواہد، گواہیاں اور قانونی کارروائی کا ازسرِ نو جائزہ لیا جائے گا۔

اگر ہائیکورٹ بھی سزا برقرار رکھے تو سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے پاس اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا بھی قانونی حق موجود ہے۔ اس طرح معاملہ بالآخر ملک کی اعلیٰ ترین عدالت میں پہنچ سکتا ہے جہاں سزا، شواہد اور کارروائی کا حتمی جائزہ لیا جائے گا۔

فیصلہ کیسے ہوا؟ آئی ایس پی آر کی مکمل تفصیلات سامنے آگئیں

گزشتہ روز آئی ایس پی آر نے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے بتایا کہ فیض حمید پر مجموعی طور پر چار سنگین الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا، جن میں شامل ہیں

  • سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونا

ریاست کے تحفظ اور مفاد کے لیے نقصان دہ افیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی

  • اختیارات اور سرکاری وسائل کا غلط استعمال

  • افراد کو غیر قانونی طور پر نقصان پہنچانا

بیان کے مطابق 12 اگست 2024 کو پاکستان آرمی ایکٹ کے تحت فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع ہوا تھا۔
تمام مراحل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے ان الزامات کو ثابت پایا اور 11 دسمبر 2025 کو 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی۔

ترجمان پاک فوج نے واضح کیا کہ کارروائی کے دوران ملزم کو اپنی پسند کی دفاعی ٹیم کے انتخاب سمیت تمام قانونی حقوق فراہم کیے گئے۔
عدالت کے فیصلے کے بعد انہیں ’’متعلقہ فورم پر اپیل کا مکمل حق‘‘ حاصل ہے۔

فیض حمید کا کیس پاکستان کی عسکری اور سیاسی تاریخ کا نہایت اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
ایک سابق ڈی جی آئی ایس آئی کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل اور پھر سخت سزا اس بات کی واضح علامت ہے کہ اداروں کے اندر احتساب کا عمل مضبوط ہو رہا ہے۔

تاہم اس معاملے میں قانونی پیچیدگیاں بہت زیادہ ہیں۔
سب سے پہلے آرمی چیف کے پاس سزا معافی کی درخواست جانا ایک اہم مرحلہ ہوگا، جس سے اندازہ لگایا جا سکے گا کہ ادارہ اس کیس کو کس نظر سے دیکھتا ہے۔

عدالتی اپیل کے مراحل بھی نہایت پیچیدہ اور طویل ہو سکتے ہیں۔
یہ کیس اس بات کا فیصلہ کن امتحان ہوگا کہ آیا عسکری عدالتی فیصلے کس حد تک اعلیٰ عدلیہ میں برقرار رہتے ہیں۔

سیاسی طور پر بھی اس فیصلے کے بڑے اثرات ہوں گے، کیونکہ یہ معاملہ براہ راست 9 مئی واقعات، پی ٹی آئی اور سابق وزیر اعظم عمران خان تک جا پہنچا ہے۔

عوامی رائے

عوامی سطح پر اس فیصلے پر دو طرح کا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
کئی شہری اسے ’’قانون کی بالادستی‘‘ قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر ایک اعلیٰ ترین عہدیدار بھی احتساب سے نہیں بچ سکتا تو یہ ملک کے لیے مثبت اشارہ ہے۔

دوسری جانب کچھ حلقے اسے ’’سیاسی اثرات‘‘ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ کیس کا دائرہ اب بہت وسیع ہو چکا ہے جس کے نتائج ملکی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑ سکتے ہیں۔

کئی افراد سوال اٹھا رہے ہیں کہ فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کے فیصلے کے بعد اعلیٰ عدلیہ کس مؤقف پر کھڑی ہوتی ہے، جبکہ کچھ شہریوں نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اپیل کا عمل طویل اور غیر یقینی ہوسکتا ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا فیض حمید کی سزا برقرار رہے گی؟
کیا وہ آرمی چیف یا اعلیٰ عدلیہ سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں