Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

ایک مائنس ہوا تو کوئی بھی باقی نہیں رہے گا، حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر سخت مؤقف، واٹر کینن کے استعمال پر شدید احتجاج
ایک مائنس ہوا تو کوئی بھی باقی نہیں رہے گا، حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے موجودہ سیاسی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر ’’ایک کو مائنس کرنے‘‘ کی پالیسی اختیار کی گئی تو اس کے نتائج پورے نظام کیلئے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کسی تجارتی سودے کا معاملہ نہیں کہ ایک چیز کم کر دی جائے اور باقی نظام چلتا رہے؛ ایسے اقدامات کے بعد حالات کسی کے قابو میں نہیں رہیں گے۔

پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اگر ایک شخصیت کو ہٹانے کی سوچ عملی شکل اختیار کرتی ہے تو اس کے بعد کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا اور پورا سیاسی ڈھانچہ عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے فیصلے صرف وقتی فائدہ تو دے سکتے ہیں مگر طویل مدت میں ملک کیلئے شدید نقصان کا سبب بنیں گے۔

واٹر کینن کے استعمال پر شدید ردعمل

چیئرمین پی ٹی آئی نے الزام عائد کیا کہ پارٹی بانی کی بہنوں پر واٹر کینن کا استعمال کیا گیا جو ناقابل قبول اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ ملاقات کیلئے آتے ہیں انہیں بھی زبردستی روکا جاتا ہے جبکہ پانی کی توپ جیسے حربے استعمال کرکے بنیادی انسانی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔ بیرسٹر گوہر نے جذباتی انداز میں کہا:

بس اب صبر کی بھی حد ہو چکی، یہ صورتحال اب ناقابلِ برداشت ہے

ان کا کہنا تھا کہ اگر ملاقات کی درخواست کرنے والے دو گھنٹے مزید وہیں بیٹھے رہتے تو ملک کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا، لیکن طاقت کے استعمال کا راستہ چن کر حالات کو مزید کشیدہ کیا جا رہا ہے۔

ملاقاتوں کی اجازت نہ ملنے پر سوالات

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پارٹی قیادت کی جانب سے مسلسل کوششوں کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ انہوں نے حکومتی مؤقف کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جواز دیا جا رہا ہے کہ بعض ٹویٹس کی وجہ سے ملاقاتوں پر پابندی لگائی گئی ہے، جبکہ اسی وقت بشریٰ بی بی کی فیملی کی جانب سے پریس کانفرنسز ہو رہی ہیں، تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ملاقاتوں میں رکاوٹ کیوں ڈالی جا رہی ہے۔

چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق یہ طرز عمل دوہرے معیار کی واضح مثال ہے، جس سے انصاف اور قانون کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔

“ہم سسٹم کا حصہ ہیں”

انہوں نے مزید کہا کہ تحریک انصاف نظام کے اندر رہ کر جدوجہد پر یقین رکھتی ہے کیونکہ ان کا مقصد ملک میں جمہوری رویوں کو برقرار رکھنا ہے۔ بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا کہ ان کی جماعت اس وقت ملک کے تین کروڑ سے زیادہ عوام کی نمائندگی کر رہی ہے اور ان کے سیاسی وجود کو دبانے کی کوشش دراصل عوامی آواز کو کچلنے کے مترادف ہے۔

فیڈریشن پر خدشات

چیئرمین پی ٹی آئی نے اس بات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ گزشتہ دنوں صوبائی اسمبلی میں منظور ہونے والی قرارداد ملک کے وفاقی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے اقدامات سے وفاق کے یونٹس کو ایک دوسرے کے مقابل کھڑا کیا جا رہا ہے جو قومی یکجہتی کیلئے خطرہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگانے یا جماعت کی حیثیت ختم کرنے کی باتیں سامنے آ رہی ہیں، جبکہ دوسری جانب ابھی تک پارٹی کے سرٹیفکیٹ کو بھی قبول نہیں کیا جا رہا۔ بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ ایک ماہ میں حالات اس حد تک خراب ہو سکتے ہیں کہ کسی کے بس میں انہیں قابو میں رکھنا ممکن نہیں رہے گا۔

سیاسی ماحول میں بے چینی

سیاسی مبصرین کے مطابق بیرسٹر گوہر کی یہ گفتگو موجودہ سیاسی تناؤ اور ریاستی اداروں و اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی دوریوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی، مظاہرین کے خلاف سخت اقدامات اور سیاسی جماعت کی قانونی حیثیت سے متعلق پیچیدگیاں مجموعی صورتحال کو مزید حساس بنا رہی ہیں۔

بیرسٹر گوہر کے بیانات اس بات کی علامت ہیں کہ سیاسی کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ ایسے ماحول میں جس میں گفت و شنید کے راستے محدود ہو جائیں اور دباؤ کے ہتھکنڈے استعمال ہوں، جمہوری عمل سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ اگر تمام فریق تحمل اور مکالمے کے راستے کو فروغ نہ دیں تو عدم استحکام گہرا ہو سکتا ہے جس کے اثرات پورے نظام پر پڑنے کا اندیشہ ہے۔

عوامی رائے

عوامی حلقوں میں اس صورتحال پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کئی شہریوں کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلاف کو ریاستی طاقت کے ذریعے دبانے کے بجائے مذاکرات اور شفاف قانونی عمل اختیار کیا جانا چاہیے۔ دوسری جانب بعض افراد اس رائے کے حامل ہیں کہ قانون کی عملداری ہر صورت یقینی ہونی چاہیے اور کسی کو بھی استثنیٰ حاصل نہیں ہونا چاہیے۔

آپ کی رائے؟

کیا موجودہ سیاسی کشیدگی کا حل سختی میں ہے یا مکالمے میں؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں