Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

بھارتی برآمدات خطرے میں، وائٹ ہاؤس سے سخت پیغام

امریکی مارکیٹ میں بڑی مقدار میں سستے داموں آنے والی بھارتی برآمدات مقامی صنعت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔ٹرمپ
بھارتی برآمدات خطرے میں، وائٹ ہاؤس سے سخت پیغام

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر مزید سخت تجارتی پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے عالمی تجارتی حلقوں میں نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کے دوران صدر نے بھارت کی جانب سے امریکی مارکیٹ میں چاول کی بڑی مقدار میں برآمدات پر سوال اٹھاتے ہوئے واضح کیا کہ اب بھارت کو بغیر محصولات کے اس سہولت سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

صدر ٹرمپ نے اجلاس میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے براہِ راست استفسار کیا کہ بھارت کو امریکہ میں چاول ’’ڈمپ‘‘ کرنے کی اجازت آخر کس بنیاد پر دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی ملک کو امریکی منڈی تک رسائی حاصل ہے تو اسے لازماً محصولات کی ادائیگی بھی کرنی ہوگی۔

اس موقع پر صدر کا کہنا تھا کہ کیا بھارت کو چاول پر کسی قسم کی خصوصی رعایت یا چھوٹ دی جا رہی ہے؟ کیونکہ امریکی مارکیٹ میں بڑی مقدار میں سستے داموں آنے والی بھارتی برآمدات مقامی صنعت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہیں۔

امریکی وزیر خزانہ کا مؤقف

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے صدر ٹرمپ کو آگاہ کیا کہ امریکا اور بھارت کے مابین تجارتی معاہدے پر بات چیت اب بھی جاری ہے اور حتمی فیصلے سے قبل دونوں ممالک کے درمیان کئی پہلوؤں پر مزید مذاکرات درکار ہیں۔

حکام کے مطابق امریکی حکومت بھارتی درآمدات کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہی ہے تاکہ کسی قسم کی تجارتی عدم توازن کو دور کیا جا سکے۔

پہلے سے موجود کشیدگی

یاد رہے کہ گزشتہ کئی ماہ سے امریکا اور بھارت کے تعلقات میں واضح سرد مہری دیکھی جا رہی ہے، خاص طور پر اس وقت کے بعد جب بھارت امریکی حکومت کے ساتھ طے شدہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے میں ناکام رہا۔

اسی تعطل کے نتیجے میں صدر ٹرمپ نے پہلے ہی بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا جس کا مقصد بھارتی مصنوعات کی امریکی منڈی میں غیر متوازن موجودگی کو محدود کرنا بتایا گیا تھا۔

موجودہ بیان اس امر کی مزید تصدیق کرتا ہے کہ واشنگٹن بھارت کے ساتھ تجارتی نرمی کی پالیسی جاری رکھنے کے بجائے سخت مؤقف اپنانے کے موڈ میں دکھائی دیتا ہے۔

عالمی تجارتی حلقوں میں تشویش

صدر ٹرمپ کے تازہ بیانات کے بعد عالمی تجارتی ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ اگر امریکا نے بھارت کے خلاف مزید ٹیرف نافذ کیے تو نہ صرف دونوں ممالک کے معاشی تعلقات متاثر ہوں گے بلکہ خطے میں تجارتی بے یقینی بھی بڑھے گی۔

بھارتی برآمدی شعبے پر ممکنہ طور پر اس کا اثر پڑسکتا ہے، خاص طور پر زرعی برآمدات، جن میں چاول سب سے نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

امریکی صدر کا بھارت پر ٹیرف سے متعلق سخت موقف واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکا اپنی تجارتی پالیسی میں مزید تحفظ پسندانہ طرز اپنا رہا ہے۔ بھارت کو ماضی میں دی جانے والی تجارتی سہولیات اب سوالیہ نشان بن چکی ہیں۔ اگر نئے محصولات نافذ ہوئے تو اس کے اثرات دونوں معیشتوں پرdirect پڑیں گے، جبکہ عالمی منڈیوں میں مسابقت مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بھارت جوابی کارروائی کرتے ہوئے امریکی مصنوعات پر بھاری ٹیکس عائد کر دے جس سے تجارتی جنگ کا نیا مرحلہ شروع ہو سکتا ہے۔

عوامی رائے

عوامی حلقوں میں اس معاملے پر مختلف آراء سامنے آ رہی ہیں۔ بعض افراد امریکی مؤقف کو ملکی صنعت کے تحفظ کیلئے درست قرار دے رہے ہیں، جبکہ دیگر یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ تجارتی جنگ سے عام صارفین پر مہنگائی کا بوجھ بڑھے گا اور عالمی سطح پر معاشی عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔

آپ کی رائے؟

کیا امریکہ اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی کشیدگی خطے میں بڑی معاشی تبدیلیوں کا سبب بن سکتی ہے یا یہ محض وقتی دباؤ کی حکمتِ عملی ہے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں