Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

سائنس دانوں کا بڑا دعویٰ،مضر اثرات سے پاک وزن گھٹانے کی نئی دوا تیار

یہ طریقہ کار موجودہ مشہور جی ایل پی-1 ادویات سے بالکل مختلف ہے جو بھوک پر اثر انداز ہو کر کام کرتی ہیں
سائنس دانوں کا بڑا دعویٰ،مضر اثرات سے پاک وزن گھٹانے کی نئی دوا تیار

نیویارک/لندن : موٹاپے اور ذیابیطس کے مریضوں کیلئے ایک خوش آئند پیش رفت سامنے آ گئی ہے جہاں سائنسدانوں نے ایک ایسے نئے کیمیائی مرکب کی تیاری کا دعویٰ کیا ہے جو بغیر کسی نمایاں مضر اثر کے وزن کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ محققین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں ایسی ادویات بنانے کا راستہ ہموار کرے گی جو مؤثر ہونے کے ساتھ ساتھ محفوظ بھی ہوں گی۔

سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ یہ مرکب جسم میں میٹابولزم کو براہِ راست متحرک کرتا ہے جس کے نتیجے میں توانائی کے استعمال کی رفتار میں اضافہ اور بلڈ شوگر کی سطح میں بہتری آتی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ طریقہ کار موجودہ مشہور جی ایل پی-1 ادویات سے بالکل مختلف ہے جو بھوک پر اثر انداز ہو کر کام کرتی ہیں۔

موجودہ ادویات اور ان کے مسائل

گزشتہ برسوں کے دوران اوزیمپک اور ویگووی جیسی GLP-1 انجیکشن ادویات نے وزن گھٹانے کے شعبے میں نمایاں مقبولیت حاصل کی ہے۔ یہ ادویات ہفتہ وار انجیکشن کے ذریعے دی جاتی ہیں جو دماغ اور معدے کے درمیان رابطے کو تبدیل کر کے بھوک کو کم کرتی ہیں اور یوں مریض کم مقدار میں غذا لینے لگتا ہے۔

تاہم ان ادویات کے مستقل استعمال سے متعدد مضر اثرات سامنے آئے ہیں جن میں شامل ہیں:

  • غیر فطری حد تک بھوک کا ختم ہوجانا

  • جسمانی مسلز کی کمزوری اور مسل ماس میں کمی

  • معدے کی بے چینی، متلی اور دیگر ہاضمے کے مسائل

طبی ماہرین کے مطابق اگرچہ وزن گھٹانے میں یہ ادویات مؤثر ثابت ہوتی ہیں، لیکن طویل المدتی صحت پر ان کے ممکنہ اثرات تشویش کا سبب بن سکتے ہیں۔

نیا طریقہ کار

محققین کے مطابق دریافت کیا گیا نیا مرکب بھوک کے نظام کو متاثر کرنے کے بجائے پٹھوں کے خلیات میں میٹابولک سرگرمی کو براہِ راست تیز کر دیتا ہے۔ اس طریقے سے جسم توانائی کو زیادہ مقدار میں استعمال کرتا ہے، چربی تیزی سے جلتی ہے اور بلڈ شوگر لیول بھی بہتر ہوتا ہے۔

یعنی اس دوا کا مقصد خوراک کم کرنا نہیں بلکہ جسم کے اندر توانائی کے نظام کو زیادہ مؤثر بنانا ہے، جس سے قدرتی انداز میں وزن میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

جانوروں پر تجربات کے نتائج

اس مرکب کا ابتدائی تجربہ جانوروں پر کیا گیا جس میں انتہائی حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے۔ تحقیق کے مطابق:

  • بلڈ شوگر کی سطح نمایاں حد تک متوازن رہی

  • وزن کم ہوا مگر عضلات کو کوئی نقصان نہیں پہنچا

  • بھوک غیر متأثر رہی اور خوراک کے قدرتی نظام میں خلل نہیں پڑا

  • جی ایل پی-1 ادویات سے منسلک عام مضر اثرات سامنے نہیں آئے

محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مستقبل میں وزن کم کرنے کی دوائیں زیادہ محفوظ اور پائیدار ہوسکیں گی۔

مستقبل کے امکانات

سائنسدانوں کے مطابق انسانوں پر باقاعدہ آزمائشوں سے قبل مزید تحقیق درکار ہے، تاہم یہ مرکب وزن گھٹانے کے علاج میں ایک انقلابی موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ ماہرین چاہتے ہیں کہ انسانی آزمائش کے بعد اس مرکب کو دوا میں تبدیل کیا جائے تاکہ موٹاپے کے شکار لاکھوں افراد کو بغیر خوف کے فائدہ پہنچایا جا سکے۔

وزن گھٹانے کی موجودہ ادویات فوری نتائج تو دیتی ہیں مگر ان کے ساتھ جڑے مضر اثرات انہیں ایک متنازع علاج بناتے ہیں۔ ایسے میں ایک ایسی دوا کی دریافت جو میٹابولزم کو قدرتی طور پر متحرک کرے اور پٹھوں یا معدے کو نقصان نہ پہنچائے، واقعی طبی سائنس میں ایک بڑی کامیابی ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم اصل امتحان انسانی ٹرائلز ہوں گے جہاں یہ دیکھا جائے گا کہ آیا یہ دوا اتنی ہی محفوظ ثابت ہوتی ہے جتنی جانوروں کے تجربات میں نظر آئی ہے۔

عوامی رائے

عوامی حلقوں میں اس خبر کو انتہائی امید افزا پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ وزن گھٹانے کے خواہش مند افراد خوشی کا اظہار کر رہے ہیں کہ ممکنہ طور پر جلد ایک ایسی دوا دستیاب ہوگی جس میں متلی، کمزوری یا مسلز کے ضیاع کا خوف نہیں ہوگا۔ تاہم کئی لوگ اب بھی محتاط ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ انسانی آزمائش سے قبل کسی نتیجے پر پہنچنا قبل از وقت ہوگا۔

آپ کی رائے؟

کیا آپ کے خیال میں مضر اثرات سے پاک وزن گھٹانے کی دوا واقعی موٹاپے کے علاج میں انقلاب برپا کر سکتی ہے یا ہر نئی دوا کی طرح اس پر بھی وقت کے ساتھ سوالات اُٹھیں گے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں