Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ، 3 خوارج ہلاک، 3 اہلکار شہید

ایک خودکش بمبار گیٹ پر پھٹا، دو حملہ آور اندر گھستے ہی مارے گئے
پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر خودکش حملہ، 3 خوارج ہلاک، 3 اہلکار شہید

پشاور:خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں واقع ایف سی ہیڈکوارٹر پر پیر کی صبح خودکش حملے کی کوشش کی گئی، جسے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت اور بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ حملے کے نتیجے میں تینوں دہشت گرد مارے گئے جبکہ بہادری سے مقابلہ کرنے والے 3 ایف سی اہلکار شہید اور 2 زخمی ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق حملہ اس وقت شروع ہوا جب ایک خودکش بمبار نے ایف سی ہیڈکوارٹر کے مرکزی دروازے پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکے کے فوراً بعد دو دیگر دہشت گردوں نے اندر داخل ہونے کی کوشش کی، تاہم فورسز نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے انہیں موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔

حملے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو اداروں کے اہلکار اور ایمبولینسز جائے وقوع پر پہنچیں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ واقعے کے بعد پولیس، ایلیٹ فورس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری نے علاقے کو مکمل گھیرے میں لے لیا اور اطراف کے تمام راستوں کو ٹریفک اور عوام کے لیے بند کر دیا۔
سی سی پی او میاں سعید نے بتایا کہ وہ خود آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں، جبکہ دھماکے کے بعد شہر میں بی آر ٹی سروس کو بھی بند کر دیا گیا۔

ریسکیو 1122 کے مطابق جائے وقوع پر 6 ایمبولینسز، فائر وہیکل، ڈیزاسٹر وہیکل اور 50 سے زائد اہلکار فوری طور پر پہنچے۔ طبی ذرائع کے مطابق 9 زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کی حالت تسلی بخش بتائی جا رہی ہے۔ زخمیوں میں ایف سی اہلکاروں کے ساتھ عام شہری بھی شامل ہیں۔ اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔

بعد ازاں آئی جی خیبر پختونخوا نے تصدیق کی کہ ایف سی ہیڈکوارٹر پر تین دہشت گردوں نے حملہ کرنے کی کوشش کی جو فورسز کی کارروائی میں مارے گئے۔ سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ یہ واقعہ صبح تقریباً 8 بجے کوہاٹ روڈ کے قریب صدر کے علاقے میں پیش آیا، جہاں خودکش دھماکے کے بعد دو دہشت گردوں نے اندر گھسنے کی ناکام کوشش کی۔

سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو کلیئر کرنے کے لیے آپریشن جاری رکھا ہوا ہے، جبکہ پورے صدر بازار اور ملحقہ علاقوں میں گشت اور سیکیورٹی مزید بڑھا دی گئی ہے۔

صدر، وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی شدید مذمت

صدر مملکت آصف علی زرداری نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہدا کے لواحقین کے لیے دلی ہمدردی کا اظہار کیا، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور کہا کہ یہ حملہ بیرونی پشت پناہی رکھنے والے خارجی دہشت گردوں کی بزدلانہ کارروائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ریاست کی اولین ترجیح ہے، اور سیکیورٹی فورسز کی بہادری قابل تحسین ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے بھی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ فورسز کی بروقت کارروائی کے باعث بڑے سانحے سے بچا گیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی سالمیت پر حملہ کرنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا، اور دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے حکومت پرعزم ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی ایف سی جوانوں کی جرات کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ فورسز نے دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنایا، اور حملہ آوروں کو جہنم واصل کر کے ملک کو بڑے نقصان سے بچایا۔

پشاور میں ایف سی ہیڈکوارٹر پر حملہ حالیہ مہینوں میں دہشتگردی کی بڑھتی ہوئی لہر کی واضح مثال ہے۔ یہ واقعہ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ خوارج اور ان کے سرپرست عناصر دوبارہ منظم ہو رہے ہیں اور ریاستی اداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
تاہم فورسز کی بروقت، مربوط اور مؤثر کارروائی نے واضح کر دیا کہ پاکستان کے سیکیورٹی ادارے نہ صرف چوکنا ہیں بلکہ کسی بھی قسم کے دہشتگرد حملے کو ناکام بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

اس واقعے نے ریاست اور دہشتگردوں کے درمیان جاری جنگ کی سنگینی کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے۔ تاہم شہید اہلکاروں کی قربانیوں نے ثابت کیا کہ پاکستانی فورسز اب بھی دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن فورس ہیں اور ملک کے دفاع کے لیے ہر لمحہ تیار ہیں۔

عوامی رائے

◼ عوام کی بڑی تعداد نے سوشل میڈیا پر سیکیورٹی فورسز کی بہادری کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
◼ شہریوں نے شہدا کے خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعائیں کیں۔
◼ کئی صارفین نے مؤقف اختیار کیا کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائی کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
◼ کچھ لوگوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دہشتگردوں کے سہولت کاروں تک بھی پہنچا جائے اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا یہ حملہ دہشتگردی کی نئی لہر کی نشاندہی ہے؟
کیا سیکیورٹی اداروں کی بروقت کارروائی نے بڑے سانحے کو روک لیا؟

اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں