اسلام آباد (سائنس اینڈ نیچر ڈیسک –فہیم اختر)کریٹ جزیرے کے گاؤں اینو ووز میں واقع زیتون کے ایک درخت کو دنیا کا سب سے قدیم زیتون کا درخت قرار دیا گیا ہے۔ یہ درخت اپنی تاریخی عمر کے باوجود آج بھی زیتون پیدا کر رہا ہے، جس نے سائنسدانوں اور ماہرین نباتات کو حیران کر دیا ہے۔
درخت کو ’Olive Tree of Vouves‘ کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس کی عمر تقریباً 3000 سال ہے، جبکہ بعض ماہرین اس کی عمر 4000 سال تک بتاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ درخت حضرت عیسٰیؑ کے زمانے سے بھی ہزار سال پہلے موجود تھا۔
درخت کی خصوصیات
درخت کا تنا بہت بڑا اور گھنا ہے، جس کا محیط تقریباً 12.5 میٹر (41 فٹ) اور قطر قریب 4.6 میٹر ہے۔ اس کی شاخیں مضبوط اور وسیع ہیں، اور تاریخی طور پر یہ درخت اولمپکس کی رسومات اور دیگر اہم مواقع پر استعمال بھی ہوا۔
1997 میں یونان کی حکومت نے اسے قدرتی یادگار کا درجہ دیا، اور اس کے قریب ہی زیتون میوزیم قائم کیا گیا تاکہ اس تاریخی شجر کی حفاظت اور اس کی اہمیت کو عوام تک پہنچایا جا سکے۔
ماہرین کی رائے
ماہر نباتات پروفیسر ایلیا کونستانتینو نے بتایا کہ ’’اس درخت کی غیر معمولی عمر اور اس کی پیداواری صلاحیت انسانی تہذیب کے لیے ایک زندہ یادگار ہے۔ یہ نہ صرف تاریخی لحاظ سے اہم ہے بلکہ آج بھی زیتون پیدا کرنے کی صلاحیت کے باعث زرعی مطالعے کے لیے بھی مفید ہے۔‘‘
تاریخی ماہر ڈاکٹر ماریا اپولونیا نے کہا کہ ’’زیتون کی یہ نسل صدیوں تک زندہ رہ کر انسانی معاشرت کی ترقی اور تہذیب کی گواہ رہی ہے۔ اس کی شاخیں اور پتے کئی صدیوں کے ثقافتی اور مذہبی تہواروں کا حصہ رہے ہیں۔‘‘
’Olive Tree of Vouves‘ نہ صرف نباتاتی اعتبار سے بلکہ تاریخی اور ثقافتی لحاظ سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ 3000 سال سے زیادہ عمر رکھنے کے باوجود یہ درخت آج بھی پھل دے رہا ہے، جو قدیم زمانے کی زمین اور موسمی حالات کی مزاحمت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ درخت یہ ظاہر کرتا ہے کہ قدیم زمانے میں زرعی تکنیکیں اور ماحولیاتی بقا کی حکمت عملی بہت مؤثر تھیں۔ آج بھی اس کی حفاظت کے لیے میوزیم قائم کیا گیا ہے اور اسے قدرتی یادگار قرار دیا گیا ہے، جو آنے والی نسلوں کے لیے علم و تحقیق کا قیمتی ذریعہ بن سکتا ہے۔
یہ درخت یونان کی ثقافتی شناخت کا حصہ بھی ہے، اور تاریخی تقریبات میں اس کی شاخیں بطور علامتی عنصر استعمال ہوتی رہی ہیں۔ قدرتی اور ثقافتی دونوں اعتبار سے یہ زیتون کا درخت عالمی سطح پر منفرد مقام رکھتا ہے۔
اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں
کیا آپ کے خیال میں ایسے قدیم درختوں کی حفاظت اور عالمی سطح پر تشہیر کافی ہے؟ اپنی رائے کمنٹس میں ضرور شیئر کریں۔
