مشرق وسطیٰ ایک مرتبہ پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں آ چکا ہے جہاں تازہ عسکری جھڑپوں، سیاسی بیانات اور سفارتی ناکامیوں نے خطے میں عدم استحکام کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے۔ مختلف ممالک کے درمیان بڑھتے تنازعات نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک سنجیدہ خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ عرب دنیا کے سیاسی حلقوں، مغربی سفارتی اداروں اور عالمی سلامتی کے ماہرین کی جانب سے خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ اگر فوری طور پر امن کی کوششیں مؤثر نہ ہوئیں تو صورتحال کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
پس منظر
گزشتہ دہائی سے مشرق وسطیٰ بدامنی، خانہ جنگیوں اور سیاسی کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ شام کی خانہ جنگی، یمن تنازع، فلسطین – اسرائیل کشمکش اور ایران سمیت علاقائی طاقتوں کے اثر و رسوخ کی دوڑ نے پورے خطے کو ایک میدانِ جنگ میں تبدیل کر دیا ہے۔
عالمی طاقتوں کی مداخلت اور علاقائی اتحادی نظام نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ امریکہ، روس، ایران اور ترکی سمیت متعدد ریاستیں براہ راست یا بالواسطہ طور پر مختلف تنازعات میں ملوث ہیں۔ اس طاقت کی کشمکش نے سفارتی مفاہمت کے راستے محدود کر دیے ہیں۔
تازہ پیش رفت
حالیہ ہفتوں میں مختلف علاقوں میں جھڑپوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ غزہ میں فائرنگ کے تبادلے، لبنان کی سرحد کے قریب فضائی نگرانی اور خلیج میں عسکری نقل و حرکت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اسرائیلی اور فلسطینی حکام کے بیانات سے کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید بڑھی ہے، جبکہ علاقائی ذمہ دار ریاستوں نے اپنے فوجی دفاع کو ہائی الرٹ پر رکھ دیا ہے۔
ادھر عالمی اداروں نے مسلسل امن مذاکرات کی اپیل کی ہے لیکن عملی نتیجہ تاحال سامنے نہیں آ سکا۔
ماہرین کے مطابق تنازع کی اصل وجہ صرف زمین یا سرحدی اختلافات نہیں بلکہ طاقت کا علاقائی توازن اور اثر و رسوخ کی جنگ ہے۔
-
ایران اور سعودی عرب کے درمیان اسٹریٹیجک برتری کی کشمکش
-
اسرائیل کا دفاعی عسکری نظام
-
امریکہ کا خطے میں سیاسی کردار
-
روس اور چین کے بڑھتے مفادات
یہ تمام فیکٹرز امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔
سفارتی مذاکرات اس لیے ناکام ہوتے دکھائی دیتے ہیں کیونکہ فریقین کسی ایک مشترکہ حل پر آمادہ نہیں۔ ہر طاقت اپنی سیاسی برتری برقرار رکھنے کی خواہاں ہے۔
عوامی ردعمل
عرب عوام اور خطے کے شہری مسلسل خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں۔
ایک فلسطینی نوجوان کے مطابق:
“ہم روز بمباری کی آوازوں کے ساتھ سوتے اور جاگتے ہیں، امن صرف خبروں میں سنائی دیتا ہے، زندگی میں نہیں۔”
لبنان کے ایک مقامی شہری کا کہنا ہے:
“ہمیں ڈر ہے کہ ہماری سرزمین دوبارہ کسی بڑی جنگ کا میدان بن جائے گی۔ بچے محفوظ نہیں، کاروبار تباہ ہو چکے ہیں۔”
سوشل میڈیا پر بھی عوام جنگ بندی کے مطالبات کر رہے ہیں اور عالمی طاقتوں سے فوری مداخلت کی اپیل کی جا رہی ہے۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی تعلقات کے ماہر ڈاکٹر خالد الزہرانی کہتے ہیں:
“اگر فوری طور پر غیر جانبدار ثالثی نہ ہوئی تو یہ تنازع پورے مشرق وسطیٰ کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل سکتا ہے جس کے اثرات یورپ اور ایشیا تک محسوس ہوں گے۔”
عرب امور کے تجزیہ کار فاطمہ السالم کا کہنا ہے:
“حل صرف عسکری طاقت نہیں بلکہ مستقل سفارتی معاہدے میں ہے۔ اقتصادی بحالی اور انسانی بنیادوں پر تعاون ہی خطے کو جنگ سے بچا سکتا ہے۔”
عالمی ردعمل
اقوام متحدہ نے فریقین سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے جبکہ یورپی یونین اور او آئی سی نے بھی امن مذاکرات کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ امریکہ نے اپنی بحری موجودگی بڑھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس کا مقصد صرف دفاعی تحفظ ہے۔
مشرق وسطیٰ میں موجود صورتحال کسی بھی وقت بڑے بحران میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ امن مذاکرات کی ناکامی، طاقت کی سیاست اور عدم اعتماد خطے کے مستقبل کو تاریک بنا رہے ہیں۔
انسانی جانوں کا تحفظ صرف اسی وقت ممکن ہے جب عالمی طاقتیں ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر امن کو ترجیح دیں۔ بصورت دیگر یہ کشیدہ صورتحال نئی جنگ کا نقطۂ آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔
