Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

سڈنی حملے میں ملوث دہشت گرد بھارتی نژاد نکلا، پروپیگنڈا مہم پوری طرح بے نقاب

نوید اکرم کے والد کا تعلق بھارت سے جبکہ والدہ کا اٹلی سے ہے۔ساتھی کا بیان
سڈنی حملے میں ملوث دہشت گرد بھارتی نژاد نکلا، پروپیگنڈا مہم پوری طرح بے نقاب

سڈنی:آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں فائرنگ کے دل خراش واقعے کے بعد اہم انکشاف سامنے آیا ہے کہ حملے میں ملوث ملزم بھارتی نژاد تھا۔ ابتدائی طور پر بھارتی میڈیا نے اس واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی بھرپور مہم چلائی، تاہم حملہ آور کی اصل شناخت سامنے آنے کے بعد اس جھوٹے پروپیگنڈے کا پول کھل گیا ہے۔

واقعے میں 16 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے، جس کے بعد بھارتی میڈیا نے سوشل میڈیا پر جھوٹی تصاویر، ترمیم شدہ ویڈیوز اور مفروضوں پر مبنی بیانات پھیلا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی۔ لیکن جیسے ہی فارنزک معلومات سامنے آئیں، بھرم ٹوٹ گیا اور سچائی کھل کر سامنے آ گئی۔

حملہ آور کے ساتھی نے آسٹریلوی چینل نائن ناؤ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نوید اکرم کے والد کا تعلق بھارت سے جبکہ والدہ کا اٹلی سے ہے۔ اس بیان نے بھارت کی طرف سے پھیلائی گئی تمام افواہوں کو یکسر مسترد کر دیا اور ثابت کردیا کہ پروپیگنڈا محض پاکستان مخالف بیانیہ بنانے کی کوشش تھی۔

بھارتی میڈیا کی جھوٹی مہم اس وقت مزید بے نقاب ہوئی جب آسٹریلوی حکام نے بھی تصدیق کی کہ حملہ آور کا پاکستان سے کوئی تعلق نہیں۔ اس حقیقت نے بھارت کے ان دعوؤں کو زمین بوس کر دیا جن میں پاکستان کو واقعے کا ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی گئی تھی۔

جوابی کارروائی کے دوران ایک دہشت گرد مارا گیا جبکہ دوسرا شدید زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔ دونوں نے یہ حملہ یہودی برادری کے مذہبی تہوار حنوکا کی تقریب کے دوران کیا، جس کے باعث ساحلی علاقے میں کہرام مچ گیا۔ پولیس نے علاقے کو فوری طور پر گھیرے میں لے کر عوام کو بونڈی بیچ سے دور رہنے کی ہدایت دی۔

اس واقعے میں ایک ایسا کردار بھی نمایاں ہوا جو انسانیت اور بہادری کی روشن مثال بن گیا۔ 43 سالہ آسٹریلوی شہری احمد ال احمد نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر ایک حملہ آور کو قابو کیا اور اسلحہ چھین کر مزید جانی نقصان ہونے سے روک دیا۔ عالمی میڈیا نے ان کے اس اقدام کو خراج تحسین پیش کیا اور انہیں ہیرو قرار دیا۔

اس کے برعکس، بھارتی میڈیا نے واقعے کو سیاسی جنگ میں بدلنے کی کوشش کی۔ جھوٹے دعوے، گمراہ کن بیانیے اور بے بنیاد الزامات نشر کیے گئے جن کا مقصد پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔ لیکن کسی بھی بین الاقوامی خبر رساں ادارے نے بھارتی دعوؤں کی حمایت نہیں کی۔

یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ نہ صرف بھارت نے اس واقعے کو اپنے پروپیگنڈے کے لیے استعمال کیا بلکہ اس دوران سچائی، انسانی ہمدردی اور متاثرین کے دکھ کو بھی پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ اس کے باوجود، احمد ال احمد کی بہادری نے دنیا کو یاد دلایا کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور انسانیت ہر نفرت انگیز پروپیگنڈے سے بلند تر ہے۔

سڈنی واقعہ اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ کس طرح مخصوص عناصر بین الاقوامی واقعات کو غلط رنگ دے کر سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں، جبکہ حقیقت ہمیشہ اپنی جگہ قائم رہتی ہے۔

سڈنی حملے کے بعد سامنے آنے والے حقائق نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ پروپیگنڈا حقیقت کا دشمن ہوتا ہے۔ بھارت کی جانب سے پھیلائی گئی جھوٹی مہم نہ صرف غیر اخلاقی اقدام تھی بلکہ اس نے عالمی میڈیا کے اصولوں اور انسانی احساسات کو بھی مجروح کیا۔ لیکن جب حق سامنے آیا، ساری مہم خود بخود زمین بوس ہوگئی۔

یہ واقعہ پوری دنیا کو بتاتا ہے کہ دہشت گردی کو کسی قوم یا مذہب کے ساتھ جوڑنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی انتہائی خطرناک ہے۔ اس کے برعکس، احمد ال احمد کی بہادری نے دنیا کو دکھایا کہ انسانیت کا روشن چہرہ ہر نسل، ہر قوم، ہر مذہب میں موجود ہے۔

عوامی رائے

سوشل میڈیا پر اس واقعے پر عوامی ردعمل کافی واضح رہا۔

بہت سے لوگوں نے بھارتی میڈیا کی بے بنیاد مہم کو شرمناک قرار دیا اور کہا کہ جھوٹ خواہ جتنا بھی پھیلایا جائے، سچ ہمیشہ سامنے آتا ہے۔ کچھ نے زور دیا کہ عالمی میڈیا کو بھی اس طرزِ رپورٹنگ کا نوٹس لینا چاہیے تاکہ اس قسم کے پروپیگنڈے کی حوصلہ شکنی ہو۔

پاکستانی صارفین نے احمد ال احمد کی بہادری کو سراہتے ہوئے انہیں اصل ہیرو قرار دیا۔ بہت سے افراد نے کہا کہ ایسے افراد دنیا کو بتاتے ہیں کہ انسانیت کی جیت ہمیشہ نفرت پر ہوتی ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا بھارت کی اس پروپیگنڈا مہم کو عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کے لیے مزید اقدامات ہونے چاہئیں؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں