
کہتے ہیں کہ کسی علاقے کی ترقی کا اندازہ سیاسی شخصیات کے پروٹوکول، بڑے بڑے اعلانات یا ترقیاتی منصوبوں کے دعوؤں سے نہیں بلکہ وہاں کی سڑکوں اور عوام کو میسر بنیادی سہولیات سے لگایا جاتا ہے۔اس پیمانے پر ترقی کو جانچا جائے تو کہروڑپکا کی بعض سڑکیں ایک ایسی حقیقت بیان کرتی ہیں جسے شاید اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے میں ابھی مزید وقت درکار ہے۔ آج بات کرتے ہیں وفاقی حکومت میں وزیرِ مملکت عبدالرحمان خان کانجو کی، جن کے حلقہ این اے 154 میں سڑکوں کی خستہ حالی عوام کے لیے مستقل پریشانی بنی ہوئی ہے۔ انتخابات کے دنوں میں ترقی اور خوشحالی کی امیدیں دلائی جاتی ہیں، لیکن انتخابات گزرنے کے بعد عوام ایک مرتبہ پھر انہی ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، گردوغبار اور بنیادی سہولیات کی کمی کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور نظر آتے ہیں۔
کہروڑپکا میں خصوصاً میلسی چوک سے میجر اسلم شہید چوک تک سڑک کی حالت متعلقہ حکام کی فوری توجہ کی مستحق ہے۔ جگہ جگہ اکھڑے ہوئے پتھر، گڑھے اور گردوغبار شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ روزانہ اس راستے سے گزرنے والے موٹر سائیکل سواروں، رکشہ ڈرائیوروں اور گاڑی مالکان کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کسی کی گاڑی کو پتھر لگتا ہے تو کسی کو مرمت پر اپنی محنت کی کمائی خرچ کرنا پڑتی ہے۔ ایک مزدور یا متوسط طبقے کے شہری کے لیے چند ہزار روپے کا نقصان بھی معمولی نہیں ہوتا۔ کانجو صاحب! کیا کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ کے حلقے کا عام شہری روزانہ کن حالات میں سفر کرتا ہے؟ سرکاری گاڑیوں اور سیاسی پروٹوکول میں شاید سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ اتنی محسوس نہ ہوتی ہو، لیکن موٹر سائیکل پر سفر کرنے والا عام شہری اس تکلیف کو بخوبی جانتا ہے۔
عبدالرحمان خان کانجو صاحب! آپ وفاقی حکومت میں ایک اہم منصب پر فائز ہیں۔ یقیناً ہر سڑک کی تعمیر یا مرمت براہِ راست آپ کی انتظامی ذمہ داری نہیں، لیکن اپنے حلقے کے عوامی مسائل متعلقہ اداروں تک پہنچانا اور ان کے حل کے لیے مؤثر کردار ادا کرنا آپ سے عوام کی جائز توقع ہے۔ آخر حکومتی عہدوں اور سیاسی اثرورسوخ کا فائدہ عام شہری تک کب پہنچے گا؟ کیا عوام کو محفوظ سڑکیں فراہم کرنا بھی کوئی غیر معمولی مطالبہ ہے؟ کیا سڑکوں کی مرمت کے لیے بھی شہریوں کو احتجاج کرنا پڑے گا؟ اور کیا ترقی صرف سیاسی تقریروں اور اعلانات تک محدود رہنی چاہیے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب بیانات سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے دیا جانا چاہیے۔
کانجو صاحب! کبھی بغیر کسی پیشگی اطلاع کے اپنے حلقے کی ان سڑکوں کا دورہ کیجیے۔ کسی سیاسی کارکن کے بجائے عام مزدور، دکاندار، طالب علم یا رکشہ ڈرائیور سے پوچھیے کہ ان راستوں نے ان کی زندگی کو کس قدر مشکل بنا رکھا ہے۔ ممکن ہے آپ کو ترقی کی وہ تصویر دکھائی دے جو سرکاری اجلاسوں اور سیاسی تقریبات میں نظر نہیں آتی۔ متعلقہ انتظامیہ اور محکمہ شاہرات سے بھی سوال ہے کہ ان سڑکوں کی مرمت کے لیے کیا منصوبہ بندی کی گئی ہے؟ اگر فنڈز مختص ہیں تو کام کب شروع ہوگا؟ عوام کو محض تسلیاں نہیں بلکہ واضح اقدامات اور معیاری تعمیراتی کام چاہیے۔
یہ تنقید کسی شخصیت سے ذاتی اختلاف نہیں بلکہ عوامی مسائل پر جواب دہی کا مطالبہ ہے۔ عبدالرحمان خان کانجو صاحب کو بھی اپنے حلقے میں مکمل ہونے والے یا زیرِ تکمیل منصوبوں کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھنے کا حق حاصل ہے، لیکن جہاں مسائل موجود ہیں وہاں ان کا حل بھی ضروری ہے۔ عوام اپنے نمائندوں کو صرف اسمبلیوں میں بیٹھنے یا سیاسی تقریبات میں شرکت کے لیے منتخب نہیں کرتے بلکہ اس امید پر ووٹ دیتے ہیں کہ ان کے بنیادی مسائل حل ہوں گے۔
اور آخر میں کانجو صاحب سے صرف ایک سوال! اگر کسی دن آپ کی گاڑی انہی خستہ حال سڑکوں پر سفر کرتے ہوئے خراب ہو جائے تو کیا متعلقہ اداروں کی توجہ حاصل کرنے کے لیے آپ کو بھی اتنا ہی انتظار کرنا پڑے گا جتنا ایک عام شہری کو کرنا پڑتا ہے؟ کانجو صاحب! گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو تو چند منٹ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، لیکن عوام کا اعتماد مجروح ہو جائے تو اسے بحال کرنے میں برسوں لگ جاتے ہیں۔ عوام کو آپ کے عہدے سے زیادہ آپ کی کارکردگی سے غرض ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آپ کے حلقے کی پہچان بہتر سڑکیں بنیں گی یا ٹوٹی پھوٹی شاہراہیں اور ان پر سفر کرتے پریشان حال شہری؟
حامد اقبال راؤ
چیف ایڈیٹر، RIASAT.PK
