واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے غزہ جنگ کے خاتمے، نظم و نسق اور تعمیرِ نو کے لیے مجوزہ عالمی فورم ’بورڈ آف پیس‘ کے قیام کا اعلان کر دیا ہے، جس کی سربراہی وہ خود کریں گے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق ’بورڈ آف پیس‘ کا بنیادی مقصد عالمی تنازعات، بالخصوص غزہ کے بحران میں جنگ بندی کے بعد امن، سول انتظامیہ اور تعمیرِ نو کے عمل کو منظم کرنا ہے۔
کن ممالک کو باضابطہ دعوت دی گئی؟
امریکا نے روس، اسرائیل اور پولینڈ کو بورڈ آف پیس میں شمولیت کے لیے باضابطہ دعوت نامے ارسال کر دیے ہیں۔
پولینڈ کے صدر کے مشیرِ خارجہ امور نے دعوت موصول ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔
روس کا محتاط ردِعمل
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے تصدیق کی ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو دعوت موصول ہو چکی ہے۔
ان کے مطابق ماسکو اس پیشکش کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہا ہے تاہم حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا۔
وسطی ایشیا کی فوری حمایت
وسطی ایشیا کے ممالک نے اس منصوبے میں نمایاں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
قازقستان اور ازبکستان کے صدور نے بورڈ میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔
صدارتی ترجمانوں کے مطابق دونوں ممالک عالمی امن کے اس اقدام کا حصہ بننے کے لیے تیار ہیں۔
اسرائیل کی خاموشی اور اندرونی اختلاف
اسرائیل کو دعوت دی جا چکی ہے مگر تاحال کوئی سرکاری جواب سامنے نہیں آیا۔
اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ نے وزیراعظم نیتن یاہو سے مطالبہ کیا ہے کہ امریکا کی قیادت میں قائم سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر بند کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ فیصلہ اب “ہم یا وہ” کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
برطانیہ کی حمایت
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے امریکی منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے اور تعمیرِ نو کے عمل میں اتحادیوں کے ساتھ مل کر کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔
منصوبے کا پس منظر
صدر ٹرمپ نے ’بورڈ آف پیس‘ کا تصور غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کیے گئے 20 نکاتی منصوبے کے تحت دیا تھا۔
جنگ بندی کے بعد منصوبہ دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جس میں غیر فوجی اقدامات اور تعمیرِ نو کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔
مستقل رکنیت کی شرط
مسودۂ چارٹر کے مطابق امریکا اب تک 60 ممالک کو بورڈ میں شمولیت کی دعوت دے چکا ہے۔
مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی مالی شراکت کو لازمی شرط قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کی رائے
بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق ٹرمپ کا ’بورڈ آف پیس‘ منصوبہ ایک غیر معمولی سفارتی کوشش ہے جس کا مقصد امریکا کو عالمی امن کا مرکزی فیصلہ ساز بنانا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ مالی شرط اور امریکی قیادت پر اعتراضات سامنے آ سکتے ہیں، تاہم غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے کثیر ملکی تعاون ناگزیر ہے۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ’بورڈ آف پیس‘ دراصل امریکا کی عالمی بالادستی کو ایک نئے سفارتی سانچے میں پیش کرنے کی کوشش ہے۔
ان کے بقول روس اور اسرائیل کا محتاط یا مبہم ردِعمل اس بات کی علامت ہے کہ یہ منصوبہ صرف امن نہیں بلکہ طاقت کے توازن سے بھی جڑا ہوا ہے۔
غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ اگر یہ بورڈ شفافیت اور حقیقی شراکت داری کے ساتھ آگے بڑھا تو غزہ میں پائیدار امن کی ایک نئی راہ ہموار ہو سکتی ہے، بصورت دیگر یہ ایک اور سیاسی فورم بن کر رہ جائے گا۔
اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں
