کوئٹہ:(رپورٹ -غلام مرتضی)کوئٹہ میں عدالتی نظام سے متعلق ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کی ہدایت پر صوبے بھر کی ضلعی عدلیہ کو ماڈل کورٹس کا درجہ دے دیا گیا ہے۔
چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے اس حوالے سے صوبے کی تمام عدالتوں کے لیے جامع ہدایات جاری کی ہیں، جن کے تحت جوڈیشل مجسٹریٹس سے لے کر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز تک تمام عدالتیں اب ماڈل کورٹس کے طور پر کام کریں گی۔
عدالتی ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا بنیادی مقصد عوام کو بروقت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا اور برسوں سے زیر التواء مقدمات کی تعداد میں نمایاں کمی لانا ہے۔ ماڈل کورٹس کے قیام سے عدالتی کارروائی میں تیزی، شفافیت اور کارکردگی میں بہتری متوقع ہے۔
یہ فیصلہ نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کے 56ویں اجلاس اور بعد ازاں ہونے والی ججز میٹنگ کی روشنی میں کیا گیا، جس میں عدالتی نظام کو مزید مؤثر بنانے پر تفصیلی غور کیا گیا تھا۔
چیف جسٹس کی جانب سے تمام عدالتوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنی ماہانہ یونٹ رپورٹس باقاعدگی سے ممبر انسپکشن ٹیم کو جمع کرائیں تاکہ کارکردگی کی مسلسل نگرانی کی جا سکے۔
عدالتی اعلامیے کے مطابق ماڈل کورٹس کا یہ فیصلہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا اور آئندہ احکامات تک برقرار رہے گا، جس سے بلوچستان میں انصاف کی فراہمی کے نظام کو ایک نئی سمت ملنے کی توقع کی جا رہی ہے
ماہرین کی رائے
قانونی ماہرین کے مطابق بلوچستان بھر کی ضلعی عدلیہ کو ماڈل کورٹس قرار دینا ایک غیر معمولی اور بروقت قدم ہے، جو صوبے میں انصاف کی رفتار بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس فیصلے پر مؤثر عملدرآمد ہوا تو برسوں سے زیر التواء مقدمات میں واضح کمی آ سکتی ہے اور عوام کا عدالتی نظام پر اعتماد بحال ہوگا۔ بعض قانونی حلقوں کے مطابق ماڈل کورٹس کا دائرہ پورے صوبے تک بڑھانا عدالتی اصلاحات کی جانب ایک مضبوط پیش رفت ہے، تاہم اس کے لیے عدالتی عملے، وسائل اور نگرانی کے نظام کو بھی مضبوط بنانا ناگزیر ہوگا۔
بلوچستان میں عدالتی نظام طویل عرصے سے مقدمات کے بوجھ اور تاخیر کا شکار رہا ہے، جس کے باعث سائلین کو برسوں انصاف کے لیے انتظار کرنا پڑتا تھا۔ صوبے بھر کی ضلعی عدلیہ کو ماڈل کورٹس کا درجہ دینا اس مسئلے کے حل کی ایک سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماڈل کورٹس کا تصور تیز سماعت، روزانہ بنیادوں پر مقدمات کی پیش رفت اور غیر ضروری التواء کے خاتمے پر مبنی ہے۔ این جے پی ایم سی کے 56ویں اجلاس کی سفارشات کے تحت کیا گیا یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نظام میں عملی اصلاحات چاہتی ہے۔ تاہم اصل امتحان اس فیصلے پر مسلسل عملدرآمد، کارکردگی کی شفاف نگرانی اور عدالتی عملے کی استعداد بڑھانے میں ہوگا۔ اگر ماہانہ رپورٹس اور انسپکشن کے عمل کو سنجیدگی سے اپنایا گیا تو یہ ماڈل پورے ملک کے لیے ایک مثال بن سکتا ہے۔
اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں
کیا بلوچستان میں ماڈل کورٹس کا یہ اقدام واقعی عوام کو بروقت انصاف فراہم کر سکے گا؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔
