طبی دنیا میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں جنوبی کوریا کے ایڈوانسڈ انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KAIST) کے محققین نے ایسا جدید طبی پاؤڈر تیار کر لیا ہے جو شدید اور گہرے زخموں سے بہنے والا خون صرف ایک سیکنڈ میں روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ انقلابی پاؤڈر AGCL Powder کہلاتا ہے، جو ایک نئی نسل کا مؤثر ہیمرواسٹیٹک ایجنٹ ہے۔ زخم پر براہِ راست چھڑکنے کے فوراً بعد یہ خون کے ساتھ کیمیائی تعامل میں آتا ہے اور لمحوں میں ایک مضبوط ہائیڈروجل حفاظتی تہہ میں تبدیل ہو جاتا ہے، جو خون کے بہاؤ کو فوری طور پر بند کر دیتی ہے۔
محققین کے مطابق اس پاؤڈر میں شامل اجزا خون میں موجود کیلشیم آئنز کے ساتھ تیز رفتاری سے ردِ عمل کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں چند ہی سیکنڈز میں ایک مضبوط فزیکل رکاوٹ بن جاتی ہے جو زخم کو سیل کر دیتی ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نہ صرف سطحی بلکہ گہرے اور غیر ہموار زخموں پر بھی مؤثر انداز میں کام کرتا ہے۔
یہ جدید اسپرے قدرتی اور بایو کمیپیٹیبل مواد سے تیار کیا گیا ہے، جو انسانی جسم کے لیے محفوظ ہے اور اس میں اینٹی بیکٹیریل خصوصیات بھی موجود ہیں، جو انفیکشن کے خطرے کو کم کرتی ہیں۔
مزید یہ کہ AGCL Powder سخت موسمی حالات، شدید درجہ حرارت اور نمی میں بھی دو سال تک مؤثر رہتا ہے، جس کے باعث اسے جنگی میدان، قدرتی آفات، حادثاتی مقامات اور ایمرجنسی میڈیکل صورتحال میں ایک نہایت کارآمد طبی ایجاد قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ دریافت مستقبل میں ایمرجنسی میڈیسن اور ٹراما کیئر کے شعبے میں ایک نیا باب کھول سکتی ہے۔
ماہرین کی رائے
طبی ماہرین کے مطابق یہ ایجاد ایمرجنسی میڈیسن اور ٹراما کیئر کے شعبے میں گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہر سرجنز کا کہنا ہے کہ اگر اس اسپرے کو عملی سطح پر وسیع پیمانے پر متعارف کرا دیا گیا تو حادثات، جنگی زخمیوں اور فوری طبی امداد کے دوران قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
بایومیڈیکل ماہرین کے مطابق اس کی اینٹی بیکٹیریل خصوصیات انفیکشن کے خطرات کو نمایاں طور پر کم کریں گی، جبکہ فوری خون روکنے کی صلاحیت اسپتال پہنچنے سے قبل مریض کی حالت مستحکم رکھنے میں مدد دے گی۔
دنیا بھر میں حادثات، جنگی تنازعات اور قدرتی آفات کے دوران خون کا زیادہ بہنا اموات کی بڑی وجہ بنتا ہے۔ ایسے حالات میں فوری اور مؤثر طبی امداد ہمیشہ ممکن نہیں ہوتی۔ AGCL پاؤڈر جیسی ایجاد اس خلا کو پُر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
یہ اسپرے خاص طور پر ان علاقوں میں انقلابی ثابت ہو سکتا ہے جہاں اسپتال یا جدید سہولیات تک فوری رسائی ممکن نہیں۔ فوجی آپریشنز، ریسکیو مشنز اور ایمرجنسی رسپانس ٹیموں کے لیے یہ ٹیکنالوجی ایک مؤثر حل بن سکتی ہے۔
طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر اس ایجاد کو کمرشل سطح پر متعارف کر دیا گیا تو مستقبل میں فرسٹ ایڈ کٹس اور ایمبولینسز کا لازمی حصہ بن سکتی ہے، جس سے ہنگامی طبی امداد کا معیار یکسر تبدیل ہو جائے گا۔
✍️ اپنی رائے دیں
آپ اس جدید طبی ایجاد کے بارے میں کیا سوچتے ہیں؟
کیا یہ واقعی ایمرجنسی میڈیسن میں انقلاب لا سکتی ہے؟
اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں۔
