Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

سال 2026 کا آغاز خوشخبری سے، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی

نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جنوری 2026 سے آئندہ 15 روز کے لیے ہوگا
سال 2026 کا آغاز خوشخبری سے، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی

اسلام آباد:(حسین احمد )  حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت پیٹرول فی لیٹر 10 روپے 28 پیسے سستا کر دیا گیا ہے۔

پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ فیصلہ آئل اینڈ گیس ریگیولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جنوری 2026 سے آئندہ 15 روز کے لیے ہوگا۔

 نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 10 روپے 28 پیسے کمی کے بعد نئی قیمت 253 روپے 17 پیسے مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ اس سے قبل پیٹرول 263 روپے 45 پیسے فی لیٹر فروخت ہو رہا تھا۔

اسی طرح ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی کمی کی گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل فی لیٹر 8 روپے 57 پیسے سستا ہونے کے بعد اس کی نئی قیمت 257 روپے 8 پیسے مقرر کر دی گئی ہے، جو پہلے 265 روپے 65 پیسے فی لیٹر تھی۔

حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ کمی مہنگائی کے دباؤ میں کمی لانے اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

ماہرین کی رائے

معاشی ماہرین کے مطابق ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا فوری فائدہ ٹرانسپورٹ اور لاجسٹکس لاگت میں وقتی دباؤ کم ہونے کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے، جس سے بعض اشیائے ضروریہ کی ترسیل پر آنے والا خرچ کم ہونے کی گنجائش بنتی ہے۔

توانائی و پالیسی حلقوں کے نزدیک قیمتوں میں ردوبدل کا بنیادی تعلق عالمی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ اور اوگرا کی سفارشات سے ہوتا ہے، تاہم عام صارف تک حقیقی ریلیف اُس وقت واضح ہوتا ہے جب اس کمی کا اثر کرایوں، مال برداری اور روزمرہ قیمتوں میں بھی منتقل ہو

مارکیٹ مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر 15 روزہ مدت میں عالمی تیل کی قیمتیں یا ایکسچینج ریٹ دوبارہ دباؤ میں آئے تو آئندہ نظرثانی میں قیمتیں پھر تبدیل ہو سکتی ہیں، اس لیے ریلیف کو پائیدار بنانے کے لیے وسیع معاشی استحکام ضروری ہے۔

یہ کمی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت نے یکم جنوری 2026 سے اگلے پندرہ روز کے لیے پیٹرول 253.17 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 257.08 روپے فی لیٹر مقرر کیا ہے۔

عمومی طور پر پیٹرول میں کمی کا براہِ راست فائدہ موٹر سائیکل، کار اور شہری سفر کرنے والے طبقے کو محسوس ہوتا ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتیں کم ہونے سے مال برداری، بین الاضلاعی ٹرانسپورٹ اور زرعی سپلائی چین کی لاگت میں کمی کی توقع کی جاتی ہے۔اسی لیے ماہرین ڈیزل کی قیمت کو مہنگائی کے رجحان کے لیے زیادہ “حساس” سمجھتے ہیں

تاہم پاکستان میں ایک عملی سوال یہ رہتا ہے کہ آیا یہ کمی مارکیٹ میں فوری طور پر کرایوں اور اشیا کی قیمتوں میں منتقل ہو پاتی ہے یا نہیں۔ اگر ٹرانسپورٹ کرایوں اور فریٹ چارجز میں کمی نہ آئے تو صارف کو ایندھن کی قیمت کم ہونے کے باوجود “مجموعی مہنگائی” میں نمایاں فرق کم محسوس ہوتا ہے۔

دوسری طرف، یہ بھی حقیقت ہے کہ قیمتوں کا تعین پالیسی سطح پر اوگرا کی سفارشات اور عالمی مارکیٹ کی حرکت کے مطابق کیا جاتا ہے، اس لیے یہ ریلیف عموماً قلیل مدتی ہوتا ہے اور ہر پندرہ روز بعد نظرثانی کے ساتھ بدل بھی سکتا ہے۔

نتیجتاً، اس کمی کو عوامی سطح پر “ریلیف” ضرور سمجھا جا رہا ہے، مگر اس کا اصل اثر اسی صورت مضبوط ہوگا جب اس کے ساتھ مانیٹرنگ، کرایوں میں ایڈجسٹمنٹ اور قیمتوں کی منتقلی (pass-through) کے لیے مؤثر اقدامات بھی نظر آئیں۔

اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں

کیا آپ کے خیال میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں یہ کمی کرایوں اور اشیائے ضروریہ پر بھی اثر ڈالے گی، یا مارکیٹ میں فرق محسوس نہیں ہوگا؟
اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں