Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

فنگر پرنٹس کا مسئلہ ختم، نادرا نے چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک سہولت متعارف کرا دی

جس سے بالخصوص بزرگوں اور طبی مسائل کا شکار افراد کو بڑی آسانی حاصل ہوگی۔
فنگر پرنٹس کا مسئلہ ختم، نادرا نے چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک سہولت متعارف کرا دی

لاہور(رمیز حسین )فنگر پرنٹس کی تصدیق میں پیش آنے والی دیرینہ مشکلات کے خاتمے کے لیے نادرا نے ایک اہم اور جدید سہولت متعارف کرا دی ہے، جس سے لاکھوں شہریوں کو براہِ راست ریلیف ملنے کی توقع ہے۔

نادرا کی جانب سے چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیقی نظام کا آغاز کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ایسے افراد جو بڑھاپے، بیماری یا کسی طبی مسئلے کے باعث فنگر پرنٹس فراہم نہیں کر سکتے، اب متبادل طریقے سے اپنی شناخت کی تصدیق کرا سکیں گے۔

نادرا ترجمان کے مطابق یہ اقدام وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی خصوصی ہدایات پر اٹھایا گیا ہے۔ اس مقصد کے تحت قومی شناختی کارڈ قوانین میں ترمیم کر کے بائیومیٹرک کی تعریف کو وسعت دی گئی ہے، جبکہ پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر بھی فیشل ریکگنیشن کے ذریعے تصدیق کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے۔

ترجمان نے بتایا کہ 20 جنوری سے ملک بھر کے تمام نادرا مراکز میں چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیقی سرٹیفکیٹ جاری کیا جائے گا۔ ایسے شہری جن کے فنگر پرنٹس کسی ادارے میں تصدیق نہ ہوں، وہ قریبی نادرا رجسٹریشن سینٹر سے معمولی فیس ادا کر کے یہ سرٹیفکیٹ حاصل کر سکیں گے۔

اس سرٹیفکیٹ پر شہری کی تصویر، شناختی کارڈ نمبر، نام، ولدیت، منفرد ٹریکنگ آئی ڈی اور کیو آر کوڈ درج ہوگا، جبکہ اس کی مدتِ استعمال سات دن ہوگی۔

نادرا کے مطابق ادارہ اس نظام کے نفاذ کے لیے مکمل طور پر تیار ہے اور متعلقہ سرکاری و نجی اداروں کو بھی ہدایات جاری کی جا رہی ہیں کہ وہ اس سہولت کو تسلیم کریں۔ 20 جنوری کے بعد کسی بھی ادارے کی جانب سے اس سہولت سے انکار کی صورت میں شہری باقاعدہ شکایت درج کرا سکیں گے۔

مزید بتایا گیا کہ مستقبل میں ڈیجیٹل آئی ڈی کے اجرا کے بعد یہ سہولت مکمل طور پر پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر منتقل کر دی جائے گی، جس سے شناختی تصدیق کا عمل مزید آسان اور تیز ہو جائے گا۔

 ماہرین کی رائے

آئی ٹی اور ڈیجیٹل سیکیورٹی ماہرین کے مطابق نادرا کا یہ اقدام پاکستان میں ڈیجیٹل شناخت کے نظام میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فیشل ریکگنیشن ٹیکنالوجی دنیا بھر میں کامیابی سے استعمال ہو رہی ہے اور اسے بائیومیٹرک تصدیق کے متبادل کے طور پر تسلیم کیا جا چکا ہے۔

سماجی ماہرین کے مطابق یہ سہولت خاص طور پر بزرگ شہریوں، معذور افراد اور مزدور طبقے کے لیے نہایت مفید ثابت ہوگی، جو برسوں سے فنگر پرنٹس کی ناکامی کے باعث شدید مشکلات کا شکار تھے۔

نادرا کی جانب سے چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک سسٹم کا آغاز صرف ایک تکنیکی تبدیلی نہیں بلکہ شہری سہولت اور ڈیجیٹل گورننس کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

پاکستان میں لاکھوں ایسے شہری موجود ہیں جن کے فنگر پرنٹس وقت کے ساتھ ماند پڑ چکے ہیں، جس کے باعث انہیں بینکنگ، سرکاری خدمات اور دیگر معاملات میں بار بار رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس مسئلے نے نہ صرف عوام کو پریشان کیا بلکہ اداروں پر بھی دباؤ بڑھایا۔

فیشل بائیومیٹرک تصدیق اس خلا کو پُر کر سکتی ہے، بشرطیکہ اس نظام کو مؤثر سیکیورٹی، ڈیٹا پرائیویسی اور ادارہ جاتی قبولیت کے ساتھ نافذ کیا جائے۔ اگر تمام ادارے نادرا کے جاری کردہ سرٹیفکیٹ کو تسلیم کریں تو یہ اقدام شناختی نظام میں ایک انقلابی تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے۔

 اپنی رائے / کمنٹس میں رائے دیں

کیا آپ کے خیال میں نادرا کی جانب سے چہرے کی شناخت پر مبنی بائیومیٹرک تصدیق واقعی شہریوں کے مسائل حل کر سکے گی؟
یا اس نظام کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے؟

اپنی رائے کمنٹس میں ضرور دیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں