اسلام آباد(غلام مرتضی)وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریکِ انصاف کو ایک مرتبہ پھر سنجیدہ مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت بات چیت کے دروازے بند نہیں کر رہی، تاہم غیر قانونی مطالبات اور دباؤ کی سیاست کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات ممکن نہیں۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حالیہ دنوں میں پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے مذاکرات کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ اگر وہ واقعی خلوصِ نیت کے ساتھ بات چیت کے خواہاں ہیں تو حکومتِ پاکستان بھی ڈائیلاگ کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ وہ قومی اسمبلی میں متعدد بار یہ مؤقف دہرا چکے ہیں کہ حکومت سنجیدہ اور بامقصد مذاکرات پر یقین رکھتی ہے، مگر ایسے کسی عمل کا حصہ نہیں بن سکتی جس میں غیر آئینی مطالبات یا سیاسی بلیک میلنگ شامل ہو۔ ان کے مطابق مذاکرات صرف انہی امور پر ہو سکتے ہیں جو آئین اور قانون کے دائرے میں ہوں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان کو درپیش سیاسی اور معاشی چیلنجز کے حل کے لیے تمام سیاسی قوتوں کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی اسی صورت ممکن ہے جب سیاسی جماعتیں قومی مفاد کو ذاتی اور جماعتی مفادات پر ترجیح دیں۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود مکالمے کا راستہ اختیار کیا جائے گا تاکہ پاکستان کو درپیش مسائل کا حل باہمی مشاورت اور ذمہ دارانہ رویے کے ذریعے نکالا جا سکے۔
ماہرین کی رائے
سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پی ٹی آئی کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دینا اس بات کا اشارہ ہے کہ حکومت سیاسی محاذ آرائی کے بجائے مکالمے کے راستے کو ترجیح دینا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق یہ پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک سیاسی اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، اور کسی بھی بڑے بحران سے نکلنے کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے۔
آئینی ماہرین کے مطابق وزیراعظم کا یہ مؤقف کہ غیر قانونی مطالبات اور بلیک میلنگ کے ساتھ مذاکرات نہیں ہو سکتے، آئینی دائرہ کار کے اندر رہنے کی واضح حد بندی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ مذاکرات آئین، قانون اور پارلیمانی روایات کے مطابق ہی ہونے چاہئیں، ورنہ اس سے ریاستی نظم و ضبط کمزور پڑ سکتا ہے۔
سینئر تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے مذاکرات کی بات کرنا اس امر کی علامت ہے کہ طویل سیاسی کشمکش نے تمام فریقین کو تھکا دیا ہے۔ ان کے مطابق اگر دونوں جانب سنجیدگی دکھائی جائے تو یہ مذاکرات ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم کرنے میں مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا بیان ایک ایسے سیاسی ماحول میں سامنے آیا ہے جہاں عدم اعتماد، احتجاجی سیاست اور ادارہ جاتی تناؤ نے ملک کی مجموعی فضا کو متاثر کر رکھا ہے۔ مذاکرات کی پیشکش بظاہر ایک مثبت قدم ہے، مگر اس کے ساتھ سخت شرائط کا ذکر یہ واضح کرتا ہے کہ حکومت دباؤ یا غیر آئینی مطالبات کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔
یہ بیان دراصل حکومت کی دوہری حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے: ایک طرف مکالمے کا دروازہ کھلا رکھنے کا پیغام، اور دوسری جانب ریاستی رِٹ اور آئینی بالادستی پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا اعلان۔ یہی توازن موجودہ سیاسی منظرنامے میں حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔
پی ٹی آئی کے لیے بھی یہ ایک فیصلہ کن موڑ ہو سکتا ہے۔ اگر وہ واقعی سنجیدہ مذاکرات کی راہ اپناتی ہے تو سیاسی کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے، تاہم اگر مطالبات غیر آئینی یا دباؤ کی صورت میں سامنے آئے تو یہ عمل ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق پاکستان اس وقت جن معاشی مشکلات، عالمی دباؤ اور داخلی چیلنجز سے گزر رہا ہے، ان کا حل سیاسی عدم استحکام میں ممکن نہیں۔ ایسی صورتحال میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بامقصد مذاکرات نہ صرف نظام کو چلانے کے لیے ضروری ہیں بلکہ عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر وزیراعظم کی پیشکش ایک مثبت سیاسی اشارہ ضرور ہے، مگر اس کی کامیابی کا انحصار الفاظ سے زیادہ عملی اقدامات، نیت کی شفافیت اور آئینی حدود کے احترام پر ہوگا۔ اگر تمام فریقین قومی مفاد کو ترجیح دیں تو یہ مذاکرات پاکستان کی سیاست میں ایک نئی شروعات ثابت ہو سکتے ہیں۔
