Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

مردہ ماں کا روپ دھار کر برسوں تک پنشن لینے والا شخص پکڑا گیا

اطالوی میڈیا کے مطابق خاتون Dall'Oglio کا انتقال 2022 میں ہوا تھا۔
مردہ ماں کا روپ دھار کر برسوں تک پنشن لینے والا شخص پکڑا گیا

اٹلی میں ایک شخص کی سنسنی خیز اور خوفناک جعلسازی کا انکشاف ہوا ہے، جو اپنی مردہ ماں کا بہروپ بدل کر برسوں تک پنشن وصول کرتا رہا۔

تفصیلات کے مطابق یہ شخص اپنی ماں کے انتقال کو چھپانے کے لیے نہ صرف خاتون جیسے کپڑے پہنتا تھا بلکہ میک اپ، زیورات اور بالوں کی کٹنگ بھی بالکل ماں جیسی رکھتا تھا تاکہ حکومتی ریکارڈ میں اسے زندہ ظاہر کیا جا سکے۔یہ ناقابلِ یقین واقعہ اٹلی کے علاقے Mantua میں سامنے آیا، جہاں 56 سالہ بیروزگار شخص نے اپنی 82 سالہ ماں کے انتقال کو 3 سال تک چھپائے رکھا اور اس دوران ہزاروں یورو کی پنشن وصول کرتا رہا۔

مردہ ماں کی لاش چھپا کر رکھی 

اطالوی میڈیا کے مطابق خاتون Dall’Oglio کا انتقال 2022 میں ہوا تھا۔
بیٹے نے ماں کے جنازے، تدفین یا موت کی اطلاع کے بجائے لاش کو ایک شیٹ میں لپیٹ کر سلیپنگ بیگ میں رکھا اور اسے اپنے گھر کے لانڈری روم میں چھپا دیا۔
وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لاش حنوط شدہ حالت میں تبدیل ہوتی گئی۔

بیٹے نے ماں کے زندہ ہونے کا تاثر برقرار رکھنے کے لیے متعدد حکومتی کاغذات بھی خود جمع کرائے، اور پنشن کے علاوہ تین جائیدادوں سے سالانہ 53 ہزار یورو سے زائد آمدنی حاصل کرتا رہا۔

ماں جیسا روپ دھار کر شناختی کارڈ کی تجدید کرائی

رپورٹس کے مطابق جعلساز بیٹا ماں کے کپڑوں، میک اپ اور زیورات میں حکومتی دفاتر جانے لگا۔
یہاں تک کہ اس نے اپنے بال بھی ماں جیسی کٹوا دیے۔
نومبر کے آغاز میں وہ Mantua کے مضافات میں موجود ایک سرکاری دفتر میں اپنی ماں کی شناختی دستاویز کی تجدید کرانے پہنچا۔

مگر وہاں موجود ایک ملازم کو اس ’خاتون‘ کے طور طریقے اور بھاری آواز پر شک ہوا۔
اس نے فوری طور پر مذکورہ شخص کی اطلاع پولیس کو دی اور متعلقہ میئر کو بھی واقعے سے آگاہ کیا۔

بعد ازاں حکومتی ریکارڈ میں موجود اصل خاتون کی تصویروں کا موازنہ کیا گیا تو وہی بیٹا پکڑا گیا۔

گرفتاری اور گھر سے ماں کی لاش برآمد

پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر اس کے گھر کی تلاشی لی، جہاں لانڈری روم میں سلیپنگ بیگ میں موجود ماں کی حنوط شدہ لاش برآمد ہوئی۔
یہ دریافت اس کیس کا سب سے خوفناک پہلو ثابت ہوئی۔

ملزم پر مالی فراڈ، سرکاری دستاویزات کے غلط استعمال اور انسانی باقیات چھپانے سمیت متعدد سنگین مقدمات درج کر دیے گئے ہیں۔

یہ واقعہ نہ صرف ایک جرم ہے بلکہ معاشرتی، ذہنی اور معاشی کئی پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے۔
ایک بیٹا اپنی ماں کے انتقال کو چھپا کر اسے ’زندہ‘ ظاہر کرتا رہے، یہ صرف مالی لالچ نہیں بلکہ سماجی ٹوٹ پھوٹ اور ذہنی بیماری کی بھی علامات ہو سکتی ہیں۔
بیروزگاری، مالی مشکلات، اور معاشرتی تنہائی نے ملزم کو اس حد تک دھکیل دیا کہ وہ اپنی مردہ ماں کا روپ دھارنے پر مجبور ہو گیا۔

یورپ میں سماجی تنہائی کے بڑھتے ہوئے مسائل اور خاندانی نظام کی کمزوری بھی اس واقعے کو سمجھنے کا اہم زاویہ ہے۔
یہ واقعہ اٹلی کی سماجی خدمات کے نظام، بزرگ شہریوں کی دیکھ بھال، اور پنشن کے نظام میں موجود کمزوریوں کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے۔

یہ کیس یہ سوال بھی اٹھاتا ہے کہ تین سال تک کسی سرکاری ادارے نے خاتون کے بارے میں کوئی فالو اپ کیوں نہیں کیا؟
اگر ایک ہیومن چیک سسٹم ہوتا تو شاید اس جعلسازی کا جلد انکشاف ہو جاتا۔

عوامی رائے

◼ بعض افراد نے اسے “خوفناک” اور “انسانیت سوز” واقعہ قرار دیا۔
◼ کئی لوگوں نے کہا کہ مالی دباؤ انسان کو ذہنی طور پر اس حد تک دھکیل سکتا ہے کہ وہ ایسے ناقابلِ یقین کام کر بیٹھے۔
◼ کچھ صارفین نے سرکاری انتظامیہ پر تنقید کی کہ تین سال تک کسی نے پنشن لینے والی خاتون کی موجودگی کی تصدیق کیوں نہ کی؟
◼ چند لوگوں نے کہا کہ یہ واقعہ یورپ میں تنہائی اور خاندانی بکھراؤ کا نتیجہ ہے، جو ایک بڑا سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا یہ واقعہ محض مالی لالچ کا نتیجہ ہے یا اس کے پیچھے معاشرتی اور ذہنی مسائل بھی کارفرما ہیں؟
اپنی رائے کمنٹ میں ضرور لکھیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں