راولپنڈی:پاکستان نے دفاعی میدان میں ایک اور اہم سنگِ میل عبور کرلیا۔ پاک بحریہ نے جہاز سے داغے جانے والے ملکی ساختہ اینٹی شپ بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کرکے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پاکستان جدید دفاعی ٹیکنالوجی میں خود انحصاری کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق تجربہ مکمل طور پر کامیاب رہا اور میزائل نے سمندر اور خشکی پر موجود اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنا کر اپنی صلاحیت ثابت کی۔ یہ جدید ہتھیار نہ صرف پاک بحریہ کی قوت میں اضافہ کرتا ہے بلکہ خطے میں پاکستان کے اسٹریٹجک توازن کے لیے بھی ایک اہم پیش رفت ہے۔
مقامی سطح پر تیار کردہ جدید ہتھیار
بیان میں بتایا گیا کہ یہ اینٹی شپ بیلسٹک میزائل مقامی طور پر تیار کیا گیا ہے اور اس میں جدید ترین ٹیکنالوجی، اسٹیٹ آف دی آرٹ گائیڈنس سسٹمز اور اعلیٰ سطح کی مناوری صلاحیتیں شامل ہیں۔
یہ ہتھیار ایسی تکنیکی خصوصیات کا حامل ہے جو اسے سمندر کی لہروں پر یا خشکی کے اندر گہرائی میں موجود اہداف کو بیک وقت نشانہ بنانے کی قابلِ اعتماد صلاحیت فراہم کرتی ہیں۔
ملکی سطح پر اس نوعیت کا میزائل تیار ہونا پاکستان کے دفاعی تحقیقاتی اداروں، انجینئرز اور سائنس دانوں کی مہارت، قابلیت اور مسلسل محنت کا واضح ثبوت ہے۔
نیول چیف اور سائنس دانوں کی موجودگی میں تجربہ
آئی ایس پی آر کے مطابق اس اہم تجرباتی فائرنگ کا مشاہدہ چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے سینئر سائنس دانوں، انجینئرز اور متعلقہ ٹیکنیکل ٹیموں کے ساتھ مل کر کیا۔
تجربے کی کامیابی نے نہ صرف تکنیکی ماہرین کا اعتماد بڑھایا بلکہ پاک بحریہ کی جدید دفاعی تیاریوں کو بھی عالمی سطح پر اجاگر کیا۔
ادارے کے مطابق یہ کامیاب تجربہ پاکستان کی دفاعی صلاحیت، تکنیکی پیش رفت اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پاک بحریہ کے مضبوط اور غیر متزلزل عزم کا مظہر ہے۔
صدر، وزیراعظم اور عسکری قیادت کی مبارکباد
صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم نواز شریف، فیلڈ مارشل، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اور تینوں سروسز چیفس نے اس شاندار کامیابی پر پاک بحریہ، سائنس دانوں اور انجینئرز کو مبارکباد پیش کی ہے۔
قومی قیادت نے اس پیش رفت کو پاکستان کے لیے دفاعی میدان میں ایک بڑا سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک اپنے دفاع میں خود کفالت کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
پاک بحریہ کے اس تجربے نے پاکستان کی دفاعی حکمتِ عملی میں ایک نئی جہت کا اضافہ کیا ہے۔ جہاز سے داغے جانے والے بیلسٹک میزائل کی کامیاب آزمائش اس بات کا ثبوت ہے کہ بحری محاذ پر پاکستان اپنی صلاحیتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق بڑھا رہا ہے۔
مقامی سطح پر اس ٹیکنالوجی کی تیاری نہ صرف دفاعی بجٹ میں بچت کا باعث ہے بلکہ پاکستان کے انجینئرز اور سائنس دانوں کی مہارت عالمی سطح پر منوانے میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہے۔
یہ تجربہ علاقائی سیکیورٹی کے تناظر میں ایک واضح پیغام ہے کہ پاکستان کسی بھی صورتحال میں اپنے سمندری مفادات اور سرحدی سلامتی کا بھرپور دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
عوامی رائے
◼ ملک کے دفاعی حلقوں نے اس تجربے کو پاکستان کی بحری قوت میں تاریخی اضافہ قرار دیا ہے۔
◼ شہریوں کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر ہتھیاروں کی تیاری سے خود انحصاری بڑھے گی اور ملکی بجٹ پر بوجھ کم ہوگا۔
◼ کچھ افراد نے اسے خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری قدم قرار دیا۔
◼ نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر سائنس دانوں اور انجینئرز کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور اسے قومی فخر کا لمحہ کہا۔
آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مقامی سطح پر تیار کردہ جدید میزائل پاکستان کے دفاع کو مزید مضبوط بنائیں گے؟
اپنے خیالات کمنٹ میں ضرور بتائیں!
