Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار حکومت کو قرار دے دیا

حکومتی پابندیوں کے باعث چینی کی قیمتیں بڑھیں، اور اس صورتحال کی ذمہ دار شوگر انڈسٹری نہیں ہے۔ایسوسی ایشن
شوگر ملز ایسوسی ایشن نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار حکومت کو قرار دے دیا

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے ایک بار پھر حکومتی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ملک میں چینی کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی اصل ذمہ داری صنعت پر نہیں بلکہ حکومتی اقدامات پر عائد ہوتی ہے۔
جاری کردہ تفصیلی اعلامیے میں کہا گیا کہ ایف بی آر پورٹلز کی بندش، غیر ضروری پابندیوں اور حکومتی نامزد کردہ ڈیلرز کی مداخلت نے چینی کی سپلائی متاثر کی جس کے نتیجے میں قیمتیں بڑھ گئیں۔

ایسوسی ایشن کے مطابق انڈسٹری طویل عرصے سے یہ کہہ رہی تھی کہ پورٹلز کی بندش کا براہِ راست اثر چینی کی ترسیل اور دستیابی پر پڑے گا، لیکن اس کے باوجود حکومتی اداروں نے نہ صرف پابندیاں برقرار رکھیں بلکہ شوگر ملوں پر یہ دباؤ بھی ڈالا گیا کہ وہ درآمدی چینی کو لازمی فروخت کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ عوام نے درآمدی چینی کو پسند نہیں کیا، جس کے باوجود سندھ میں پورٹلز اس لیے بند رکھے گئے کہ پہلے درآمدی چینی مارکیٹ میں بیچی جائے، جس سے مقامی سپلائی مزید متاثر ہوئی۔

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کہا کہ ان اقدامات کے دوران جیسے جیسے پابندیاں بڑھتی گئیں ویسے ویسے چینی کی سپلائی گھٹتی گئی، نتیجتاً قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
اعلامیے کے مطابق پنجاب میں ضلعی انتظامیہ نے بھی ملوں کو مجبور کیا کہ وہ حکومت کی جانب سے نامزد کردہ ڈیلرز کو چینی فراہم کریں، اور انہی ڈیلرز نے مارکیٹ میں زیادہ منافع کے لیے چینی مہنگی بیچی۔

ایسوسی ایشن نے موقف اختیار کیا کہ ’’ان تمام حکومتی پابندیوں کے باعث چینی کی قیمتیں بڑھیں، اور اس صورتحال کی ذمہ دار شوگر انڈسٹری نہیں ہے‘‘۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ نئی چینی مارکیٹ میں آنے کے بعد قیمتیں دوبارہ معمول پر آنے کا امکان ہے، بشرطیکہ حکومت غیر آئینی اور غیرقانونی پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرے۔

شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ چینی کی بین الصوبائی ترسیل پر لگائی گئی پابندی نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ اس سے اسٹاک کی نقل و حرکت رک جاتی ہے، جو براہِ راست قیمتوں کے استحکام کو متاثر کرتی ہے۔
ان کے مطابق جب تک صوبائی سرحدوں پر مصنوعی رکاوٹیں ختم نہیں ہوں گی، چینی کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھ سکتی ہیں۔

چینی کی قیمتوں پر جاری ملکی بحث ایک بار پھر اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب حکومتی پالیسیاں واضح نہ ہوں، اور ضلعی انتظامیہ بازار کی قوتوں کے بجائے مخصوص ڈیلرز کو ترجیح دینا شروع کر دے، تو مہنگائی کا بوجھ براہِ راست عوام پر پڑتا ہے۔
شوگر انڈسٹری کا موقف ہو یا حکومتی اقدامات—اصل اثر مارکیٹ میں سپلائی کے متاثر ہونے پر پڑتا ہے، جس کا خمیازہ صارفین کو بھگتنا پڑتا ہے۔
آنے والے ہفتوں میں صورت حال اسی وقت بہتر ہوسکتی ہے جب حکومت آزاد مارکیٹ کے اصولوں کو قائم رکھے اور مصنوعی رکاوٹیں فوری ختم کرے۔

عوامی رائے

◼ صارفین کا ایک بڑا حلقہ سمجھتا ہے کہ چینی کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست حکومتی پالیسیوں اور انتظامی مداخلت کا نتیجہ ہے۔
◼ کچھ لوگوں نے شوگر ملز ایسوسی ایشن کے موقف کو حق بجانب قرار دیا اور حکومت سے بین الصوبائی ترسیل کی پابندی فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
◼ دیگر صارفین کا خیال ہے کہ ملز اور ضلعی انتظامیہ کے رویّے دونوں نے مل کر مارکیٹ کو متاثر کیا، لہٰذا شفاف تحقیقات ضروری ہیں۔
◼ ایک طبقہ یہ بھی کہہ رہا ہے کہ جب نئی چینی مارکیٹ میں آئے گی تو قیمتیں خودبخود نارمل ہو جائیں گی، البتہ حکومتی مداخلت ختم ہونا لازمی شرط ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں