Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

سیاست نے کھیل بگاڑ دیا، بھارت عالمی کرکٹ ایونٹ کی میزبانی سے محروم

عالمی تنظیموں نے بھارت کے رویے کو غیر موزوں قرار دیتے ہوئے ٹورنامنٹ کی میزبانی واپس لے لی ہے
سیاست نے کھیل بگاڑ دیا، بھارت عالمی کرکٹ ایونٹ کی میزبانی سے محروم

بھارت کے منفی رویوں اور کھیلوں میں سیاسی مداخلت نے ایک بار پھر اس کی عالمی سطح پر ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ سفارتی تنازعات اور کھیلوں میں غیر ضروری سیاست نے نہ صرف اس کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات کو متاثر کیا بلکہ اب بھارت اگلے برس شیڈول اوور 40 عالمی کپ کرکٹ ٹورنامنٹ کی میزبانی سے بھی محروم ہو چکا ہے۔

تفصیلات کے مطابق کھیلوں کی عالمی تنظیموں نے بھارت کے رویے کو غیر موزوں قرار دیتے ہوئے ٹورنامنٹ کی میزبانی واپس لے لی ہے، جس کے بعد یہ میگا ایونٹ ممکنہ طور پر نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں منعقد ہوگا۔ دنیا کی معروف ٹیمیں اس ایونٹ میں شرکت کریں گی، جس سے ایک بار پھر کھیل کے میدان میں بھارت کی تنہائی واضح نظر آتی ہے۔

اسی دوران رواں برس کا اوور 40 عالمی کپ ٹورنامنٹ پاکستان کی میزبانی میں جاری ہے۔ یہ ایونٹ ملک میں کھیلوں کی سرگرمیوں کی بحالی کا ایک بڑا ثبوت سمجھا جا رہا ہے۔ افتتاحی میچ ہفتے کے روز نیشنل بینک اسٹیڈیم میں میزبان پاکستان اور جنوبی افریقہ کے مابین کھیلا جائے گا۔

پاکستان ویٹرنز ٹیم کی قیادت سابق آل راؤنڈر عبدالرزاق کے سپرد کی گئی ہے۔ 18 رکنی اسکواڈ میں شاہد خان آفریدی سمیت کئی سابق عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی شامل ہیں جبکہ جاوید میانداد اس ٹیم کے مینٹور کے طور پر ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔ یہ ٹورنامنٹ یکم دسمبر تک جاری رہے گا۔

میگا ایونٹ میں پاکستان کے ساتھ ساتھ آسٹریلیا، جنوبی افریقا، ویسٹ انڈیز، سری لنکا، ہانگ کانگ، زمبابوے، کینیڈا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، امریکا اور ریسٹ آف دی ورلڈ کی ٹیمیں بھی شرکت کر رہی ہیں، جس سے یہ ٹورنامنٹ عالمی سطح پر بھرپور دلچسپی کا حامل بن چکا ہے۔

ٹورنامنٹ کی ٹرافی کی رونمائی تقریب جمعہ کے روز منعقد ہوئی جس میں کھلاڑیوں، آفیشلز اور مختلف ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ پاکستان میں اس ایونٹ کے انعقاد کو ملک میں کھیلوں کے روشن مستقبل کی جانب اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

بھارت کا عالمی اسپورٹس میں امیج مسلسل خراب ہو رہا ہے، جس کی بنیادی وجہ کھیل کے میدانوں میں سیاست کو دخیل کرنا، مخالف ٹیموں کے ساتھ غیر صحت مند رویہ اختیار کرنا اور علاقائی کھیلوں میں اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوششیں ہیں۔
میزبانی کی واپسی نہ صرف بھارت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے بلکہ یہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ عالمی کھیلوں کے ادارے کھیل میں سیاست کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔

اس کے برعکس پاکستان کی میزبانی میں جاری اوور 40 عالمی کپ دنیا کے لیے یہ پیغام ہے کہ پاکستان نہ صرف محفوظ ملک ہے بلکہ یہاں کھیلوں کی سرگرمیوں کا احیا بھی تیزی سے ہو رہا ہے۔

بھارت کا کھیلوں میں تنہائی کی طرف بڑھنا ایک ایسے ملک کے لیے تشویشناک ہے جو اپنے آپ کو عالمی اسپورٹس پاور کہنا چاہتا ہے۔ اگر بھارت نے پالیسیوں اور رویوں میں تبدیلی نہ لائی تو مستقبل میں مزید میزبانیوں سے محروم ہونا پڑ سکتا ہے۔

عوامی رائے

◼ بہت سے شائقین نے بھارت کی میزبانی کی محرومی کو ’’سیاست کا نتیجہ‘‘ قرار دیا۔
◼ سوشل میڈیا پر صارفین بھارت کو ’’کھیل دشمن‘‘ رویے کا ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔
◼ پاکستانی صارفین نے اپنے ملک میں میگا ایونٹ کے انعقاد پر خوشی اور فخر کا اظہار کیا۔
◼ کچھ بین الاقوامی شائقین کا کہنا ہے کہ کھیل کو ہمیشہ سیاست سے آزاد رکھنا چاہیے، ورنہ یہ عالمی سطح پر رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟

کیا بھارت کو کھیل سے زیادہ سیاست پر توجہ دینے کا نتیجہ بھگتنا پڑا؟
کیا کھیلوں میں سیاست کو مکمل طور پر ختم کر دینا چاہیے؟

اپنی رائے کمنٹ میں ضرور بتائیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں