Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

پاکستانی صحافی شاہزیب خانزادہ کے ساتھ لندن میں بدتمیزی، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

ایک نامعلوم شخص شاہزیب خانزادہ کا پیچھا کرتے ہوئے ان پر سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا الزام لگاتا ہے
پاکستانی صحافی شاہزیب خانزادہ کے ساتھ لندن میں بدتمیزی، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

پاکستان کے معروف صحافی اور ٹی وی اینکر شاہزیب خانزادہ کو لندن میں اہلیہ کے ہمراہ ایک شاپنگ مال میں ہراساں کرنے کا واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد شوبز شخصیات سمیت عوام کے مختلف حلقوں کی جانب سے شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک نامعلوم شخص شاہزیب خانزادہ کا پیچھا کرتے ہوئے ان پر سابق وزیراعظم عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کا الزام لگاتا ہے اور بدتمیزی کرتا ہے۔ شاہزیب خانزادہ نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوئی اشتعال انگیز جواب دیے بغیر خاموشی سے وہاں سے روانہ ہو گئے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر سیاسی اختلافات کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنے کے خطرناک رجحان کو اجاگر کرتا ہے، جس نے معاشرے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔

واقعے کی تفصیلات

ویڈیو فوٹیج کے مطابق، شاہزیب خانزادہ اپنی اہلیہ کے ساتھ لندن کے ایک شاپنگ مال میں موجود تھے جب ایک شخص نے ان کا پیچھا شروع کیا۔ ملزم نے بلند آواز میں شاہزیب خانزادہ پر عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف “گندے پروپیگنڈے” کا الزام لگایا، خاص طور پر عدت کیس کا حوالہ دیتے ہوئے۔ ملزم نے اپنے الزامات کی کوئی ٹھوس دلیل پیش نہیں کی۔

بعد ازاں پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گل نے ایک پرانی ویڈیو شیئر کی جس میں شاہزیب خانزادہ اپنے پروگرام میں عدت کیس پر گفتگو کر رہے تھے۔ شہباز گل نے اسے “گندگی” قرار دیتے ہوئے ہراسانی کے واقعے کو بالواسطہ طور پر جواز فراہم کرنے کی کوشش کی۔ یاد رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کو عدت کیس میں فروری 2024 میں سات سات سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، لیکن جولائی میں انہیں بری کر دیا گیا تھا۔

شوبز شخصیات کا سخت ردعمل

اداکار منیب بٹ نے اس واقعے کو “شرمناک عمل” قرار دیتے ہوئے کہا
”شاہزیب خانزادہ ملک کے ذہین، معتبر اور باصلاحیت صحافیوں میں سے ایک ہیں۔ کسی کو بھی فیملی کے ساتھ عوامی مقامات پر اس طرح ہراساں کرنا نہ صرف غیر انسانی بلکہ سراسر شرمناک ہے۔“

گلوکار و سماجی کارکن جواد احمد نے بھی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا:
”ایسی حرکات کرنے والوں کے خلاف فوری قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ سیاسی اختلاف رائے کو ذاتی دشمنی میں تبدیل کرنا قابلِ قبول نہیں۔ اگر آج اسے روکا نہ گیا تو کل کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔“

اداکارہ صبا قمر، عثمان خالد بٹ، اور دیگر شخصیات نے بھی سوشل میڈیا پر شاہزیب خانزادہ سے یکجہتی کا اظہار کیا اور اس رویے کو “غنڈہ گردی” اور “فاشزم کی ابتدائی علامت” قرار دیا۔

عوامی رائے

ایکس پر ہزاروں صارفین نے اس واقعے پر غم و غصے کا اظہار کیا

  • ایک صارف نے لکھا: ”یہ mob mentality کا نتیجہ ہے۔ سیاسی اختلاف رکھو، تنقید کرو، لیکن فیملی کے ساتھ ہراساں کرنا؟ یہ تو دہشت گردی ہے!“

  • ایک اور نے کہا: ”شاہزیب خانزادہ نے جس طرح تحمل کا مظاہرہ کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ لیکن ہمیں سوچنا ہوگا کہ ہمارا معاشرہ کہاں جا رہا ہے۔“

  • کئی صارفین نے لکھا: ”لندن میں بھی پاکستانیوں کو شرمندہ کر رہے ہو؟ یہ سیاسی جنون ہے یا نفرت؟“

یہ واقعہ پاکستانی معاشرے میں سیاسی تقسیم کی گہرائی اور اس کے خطرناک نتائج کی ایک واضح مثال ہے۔ سیاسی اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے، لیکن جب وہ ذاتی دشمنی، ہراسانی اور تشدد کی شکل اختیار کر لے تو یہ ریاست اور معاشرے کے لیے انتباہ بن جاتا ہے۔ شاہزیب خانزادہ کا تحمل قابلِ تعریف ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم ہر شہری کو، چاہے وہ صحافی ہو یا عام آدمی، فیملی کے ساتھ محفوظ رکھ سکتے ہیں؟

پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں کی جانب سے اس واقعے کو جواز دینے کی کوشش تشویشناک ہے۔ اگر سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کو یہ پیغام دیں کہ صحافیوں یا مخالفین کو عوامی مقامات پر ہراساں کرنا جائز ہے، تو یہ اداروں اور قانون کی عملداری پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔

حکومتِ برطانیہ سے بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس ملزم کی فوری گرفتاری یقینی بنائے، کیونکہ یہ واقعہ لندن میں پیش آیا اور وہاں ایسی ہراسانی سنگین جرم ہے۔ پاکستانی سفارتخانے کو بھی چاہیے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے۔

آپ کی کیا رائے ہے؟
کیا سیاسی اختلاف کی آڑ میں عوامی مقامات پر ہراسانی کو برداشت کیا جا سکتا ہے؟ کیا صحافیوں کو تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری نہیں؟ کمنٹ سیکشن میں ضرور بتائیں!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں