Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

ڈیزائنر بے بی کا تصور حقیقت بننے کے قریب، ماہرین اخلاقیات تشویش میں مبتلا

سان فرانسسکو میں قائم ایک نئی سائنسی کمپنی پریونٹیو خفیہ طور پر جین ایڈیٹنگ کی مدد سے ایسے 'ڈیزائنر بچوں' کی تخلیق پر کام کر رہی ہے
ڈیزائنر بے بی کا تصور حقیقت بننے کے قریب، ماہرین اخلاقیات تشویش میں مبتلا

لاہور: سائنس کی دنیا میں ایک ایسا باب کھل رہا ہے جو انسانی تخلیق کی حدود کو چیلنج کر رہا ہے جہاں سان فرانسسکو میں قائم ایک نئی سائنسی کمپنی پریونٹیو خفیہ طور پر جین ایڈیٹنگ کی مدد سے ایسے ‘ڈیزائنر بچوں’ کی تخلیق پر کام کر رہی ہے جو نہ صرف پیدائشی بیماریوں اور نقائص سے مکمل طور پر پاک ہوں گے بلکہ اعلیٰ ذہانت اور جسمانی صلاحیتوں سے بھی آراستہ ہوں گے جو وال اسٹریٹ جرنل کی ایک تحقیقاتی رپورٹ نے پردہ اٹھایا ہے اور یہ انکشاف نہ صرف سائنسی انقلاب کی نوید دیتا ہے بلکہ اخلاقی، قانونی اور سماجی خطرات کی ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے جہاں امریکہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں ایسی تحقیق غیر قانونی ہونے کے باوجود خفیہ طور پر جاری ہے۔ یہ کمپنی جو صرف چند مہینوں پہلے قائم ہوئی ہے اس کی بنیاد جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی پر رکھی گئی ہے جہاں انسانی ایمبرائیو کی ناقص جینز کو نکال کر صحت مند اور مطلوبہ خصوصیات والی جینز کو داخل کیا جائے گا جو ایک ایسا تصور ہے کہ سائنس فکشن کی کہانیوں سے حقیقت کی طرف بڑھ رہا ہے مگر اس کی راہ میں قانونی پابندیاں اور اخلاقی سوالات ایک دیوار کی مانند کھڑے ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق پریونٹیو کمپنی جو جین ایڈیٹنگ سائنسدان لوکاس ہیرنگٹن کی زیر قیادت کام کر رہی ہے اس نے 30 ملین ڈالر کی فنڈنگ حاصل کر لی ہے جو سلکان ویلی کے بڑے سرمایہ کاروں کی حمایت کی علامت ہے اور اس تحقیق کا بنیادی ہدف انسانی ایمبرائیو کو ایڈٹ کرکے وراثتی بیماریوں جیسے سسٹک فائبریسس، سل کل سیل یا دل کی بیماریوں سے پاک کرنا ہے مگر رپورٹ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی ذہانت بڑھانے، ہڈیوں کو مضبوط بنانے یا کولیسٹرول کی سطح کم کرنے جیسے مطلوبہ خصوصیات کو بھی شامل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو ‘ڈیزائنر بچوں’ کی ایک نئی نسل کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ یہ تحقیق محض پیشگی مطالعہ ہے اور اسے محفوظ ثابت کرنے کے بعد ہی انسانی استعمال پر غور کیا جائے گا مگر رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پریونٹیو متحدہ عرب امارات جیسے ممالک میں تجربات کرنے کی تلاش میں ہے جہاں ایمبرائیو ایڈیٹنگ کی پابندیاں کم ہیں جو امریکہ کی وفاقی قوانین کی خلاف ورزی کو چھپانے کی کوشش کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ خفیہ تحقیق چھ ماہ سے جاری ہے اور اب تک عوامی سطح پر اس کا اعلان نہ کیا گیا تھا جو اس کی حساسیت کو واضح کرتا ہے۔

اس انکشاف کی بنیاد امریکی کمپنی اوپن اے آئی کی سربراہ سام الٹمین اور کرپٹو کرنسی ایکسچینج کوائن بیس کے شریک بانی برائن آرمسٹرانگ کی سرمایہ کاری ہے جو سلکان ویلی کی اشرافیہ کی دلچسپی کی علامت ہے اور الٹمین کے شوہر اولیور ملہرین کی شمولیت نے اسے ذاتی سطح پر بھی اہمیت بخش دی ہے۔ آرمسٹرانگ نے حال ہی میں سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا کہ وہ پریونٹیو میں سرمایہ کاری سے پرجوش ہیں اور جین ایڈیٹنگ وراثتی بیماریوں کو ختم کرنے کا آسان ترین طریقہ ہے جو ایمبرائیو مرحلے میں نقائص کو درست کر سکتی ہے مگر رپورٹ میں ان کی ایک خفیہ تجویز کا بھی ذکر ہے جہاں انہوں نے کہا کہ ایک صحت مند انجینئرڈ بچے کو خفیہ طور پر پیدا کرکے عوامی قبولیت حاصل کی جا سکتی ہے جو ایک خطرناک تجربہ کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ سرمایہ کاری سلکان ویلی کی دیگر کمپنیوں جیسے اورکید، نیوکلیئس جینومکس اور ہیرا سائٹ کی طرح ہے جو جینیٹک ٹیسٹنگ پر کام کر رہی ہیں مگر پریونٹیو کی تحقیق ایمبرائیو ایڈیٹنگ کی طرف ایک قدم آگے ہے جو 2018 میں چین میں ہی جیانکوی کی طرف سے HIV سے پاک بچوں کی تخلیق کی یاد دلاتی ہے جو عالمی تنقید کا شکار ہوئی تھی۔

یہ خبر شائع ہونے کے فوراً بعد امریکی دانشوروں، سائنسدانوں اور اخلاقی ماہرین کے درمیان ایک شدید بحث چھڑ گئی ہے جہاں اخلاقیات، حفاظت اور ڈیزائنر بچوں سے وابستہ خطرات پر سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا یہ ٹیکنالوجی انسانی مساوات کو ختم کر دے گی جہاں امیر طبقہ ہی ایسے ‘مکمل’ بچوں تک رسائی حاصل کر سکے گا اور غریب نسل کی جینیٹک کمزوریاں برقرار رہیں گی جو سماجی تقسیم کو گہرا کرے گی۔ حفاظت کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ جین ایڈیٹنگ کے طویل مدتی اثرات نامعلوم ہیں اور غلط ایڈیٹنگ سے نئی بیماریاں جنم لے سکتی ہیں جو انسانی نسل کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے جبکہ قانونی طور پر امریکہ میں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن ایمبرائیو ایڈیٹنگ کے انسانی تجربات پر غور تک نہیں کر سکتی جو اس تحقیق کو غیر قانونی بناتی ہے اور کمپنی کی خفیہ کارروائیوں کو مزید مشکوک بنا دیتی ہے۔ یہ بحث نہ صرف سائنسی حلقوں تک محدود ہے بلکہ سماجی میڈیا اور عوامی فورمز پر بھی پھیل چکی ہے جہاں لوگ اسے ‘خدا کی تخلیق میں مداخلت’ قرار دے رہے ہیں اور عالمی سطح پر پابندیوں کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

 جین ایڈیٹنگ کی ڈیزائنر بچوں کی طرف پیش رفت

یہ انکشاف سائنس کی ایک نئی سرحد کو کھولتا ہے جو وراثتی بیماریوں کے خاتمے کی امید دیتا ہے مگر اس کی خفیہ نوعیت اور سلکان ویلی کی سرمایہ کاری اخلاقی خلا کو بڑھا رہی ہے جہاں پریونٹیو جیسی کمپنیاں قانونی پابندیوں کو چکمہ دے کر UAE جیسے ممالک میں کام کر رہی ہیں جو عالمی ضابطوں کی خلاف ورزی ہے۔ ایک طرف تو سام الٹمین اور برائن آرمسٹرانگ جیسی شخصیات کی حمایت ٹیکنالوجی کو تیز کر سکتی ہے مگر دوسری طرف یہ سماجی عدم مساوات کو جنم دے گی جہاں امیر طبقہ ہی ‘مکمل’ بچوں تک رسائی حاصل کرے گا اور غریبوں کی جینیٹک کمزوریاں برقرار رہیں گی جو ‘یوٹوپیا’ کی بجائے ‘ڈس ٹوپیا’ کی طرف لے جائے گی۔ حفاظت کے خطرات جیسے آف ٹارگٹ ایڈیٹنگ سے نئی بیماریاں اور طویل مدتی اثرات بھی سنگین ہیں جو 2018 کے چینی کیس کی طرح اخلاقی بحران پیدا کر سکتے ہیں اور امریکہ میں FDA کی پابندی اس تحقیق کو غیر قانونی بناتی ہے جو کمپنی کی خفیہ کارروائیوں کو مزید خطرناک بنا دیتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ پیش رفت سائنسی انقلاب کی نوید ہے مگر اس کی کامیابی عالمی اخلاقی ضابطوں اور مساوات کی ضمانت پر منحصر ہوگی ورنہ یہ انسانی فطرت کی تبدیلی کو ایک سماجی بحران میں بدل دے گی۔

عوامی رائے سوشل میڈیا اور عالمی فورمز پر ایک شدید تقسیم کی صورت اختیار کر چکی ہے جہاں حامی اسے بیماریوں کے خاتمے کی امید قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ سلکان ویلی کی سرمایہ کاری سے مستقبل کی صحت مند نسل ممکن ہوگی جبکہ مخالفین خاص طور پر مذہبی اور اخلاقی حلقوں سے یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ خدا کی تخلیق میں مداخلت ہے اور امیر غریب کی جینیٹک تقسیم کو بڑھائے گی۔ کچھ صارفین UAE جیسے ممالک میں تحقیق کی تنقید کر رہے ہیں مگر مجموعی طور پر خوف غالب ہے جو عالمی پابندیوں کی ضرورت کو اجاگر کر رہا ہے اور لوگ امید کر رہے ہیں کہ یہ بحث اخلاقی حدود طے کرے گی۔

آپ کی رائے کیا ہے؟
کیا جین ایڈیٹنگ کے ذریعے ذہین اور بیماریوں سے پاک بچے پیدا کرنا انسانیت کی ترقی ہے یا قدرت کے نظام سے کھیلنے کے مترادف؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں