واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں کی ایک نئی جھلک سامنے آئی ہے جہاں انہوں نے ٹیرف سے حاصل ہونے والی اربوں ڈالر کی اضافی آمدنی کو براہ راست عوام تک پہنچانے کا اعلان کر دیا ہے اور ہر عام شہری کو کم از کم 2 ہزار ڈالر کی رقم ڈیویڈنڈ کی صورت میں دینے کا وعدہ کیا ہے جو ان کی "امریکہ سب سے پہلے” کی سوچ کی ایک زندہ مثال ہے مگر یہ اعلان اسی وقت سامنے آیا ہے جب سپریم کورٹ ان کی نافذ کردہ ٹیرف پالیسی کے قانونی جواز پر غور کر رہی ہے اور کئی نچلی عدالتیں اسے غیر قانونی قرار دے چکی ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے پسندیدہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اتوار کی صبح ایک پوسٹ میں یہ اعلان کیا جس میں انہوں نے ٹیرف کی کمائی کو قومی قرض کی ادائیگی اور عوامی فلاح کے لیے استعمال کرنے کی بات کی جو ان کی اقتصادی حکمت عملی کی ایک دلچسپ جھلک ہے اور امریکی عوام میں امید کی کرن جگا رہی ہے جہاں 37 ٹریلین ڈالر کے دیوہیالے کو کم کرنے کا خواب اب ایک حقیقی منصوبے کی شکل اختیار کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں پرجوش لہجے میں لکھا کہ امریکہ اب دنیا کا امیر ترین اور سب سے زیادہ عزت والا ملک بن چکا ہے جہاں افراط زر تقریباً ختم ہو گیا ہے، اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ سطح پر ہے اور 401k ریٹائرمنٹ اکاؤنٹس کبھی نہیں دیکھے گئے تو یہ سب کچھ ٹیرف کی کمائی کا نتیجہ ہے جو کھربوں ڈالر کی صورت میں سامنے آ رہی ہے اور اسی کمائی سے قومی قرض کی ادائیگی کا سلسلہ جلد شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ہر امریکی شہری کو (زیادہ آمدنی والے افراد کو چھوڑ کر) کم از کم 2 ہزار ڈالر کی رقم دی جائے گی جو ایک براہ راست مالی امداد کی شکل ہوگی اور یہ اعلان اکتوبر میں ایک انٹرویو کے دوران دی گئی تجویز کی تکمیل ہے جہاں ٹرمپ نے 1 سے 2 ہزار ڈالر کی تقسیم کی بات کی تھی اور اندازہ لگایا تھا کہ ٹیرف سے سالانہ ایک ٹریلین ڈالر سے زائد کی آمدنی ہو سکتی ہے جو عوام کو واپس کرنے کا ایک منصفانہ طریقہ ہے۔ ٹرمپ کی یہ پوسٹ نہ صرف ان کی ٹیرف پالیسی کی دفاع تھی بلکہ مخالفین کو "احمق” قرار دیتے ہوئے ان کی حکمت عملی کی کامیابی کا جشن بھی منایا جو ان کی سیاسی بیان بازی کی ایک اور مثال ہے۔
اس اعلان کی دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹریژری سیکریٹری سکاٹ بیسنٹ نے ایک انٹرویو میں اسے مختلف شکلوں میں ممکن قرار دیا ہے جہاں یہ رقم براہ راست چیک کی بجائے ٹیکس میں رعایت جیسے ٹپس پر ٹیکس ختم کرنا، اوور ٹائم پر ٹیکس نہ لینا، سوشل سیکیورٹی پر ٹیکس خاتمہ یا آٹو لونز کی کٹوتی کی صورت میں بھی آ سکتی ہے جو ٹرمپ کی اقتصادی ایجنڈے کا حصہ ہے اور اسے ایک جامع فنانشل ریلیف پیکج بنا دیتی ہے۔ بیسنٹ کا یہ بیان ٹرمپ کی تجویز کو ایک لچکدار شکل دیتا ہے جو قانونی اور بجٹ کی حدود میں فٹ ہو سکتی ہے مگر بنیادی مقصد وہی ہے کہ ٹیرف کی کمائی عوام تک پہنچے اور قومی قرض کو کم کرنے میں مدد دے جو 37 ٹریلین ڈالر کی دیوار کو توڑنے کی ایک امید افزا کوشش ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا دعویٰ ہے کہ مالی سال 2025 میں ٹیرف کی آمدنی 215.2 بلین ڈالر تک پہنچ گئی ہے جو اپریل میں "لبریشن ڈے” ٹیرف کے اعلان کے بعد تیزی سے بڑھی ہے اور یہ کمائی نہ صرف عوامی امداد بلکہ اندرونی سرمایہ کاری کو بھی فروغ دے رہی ہے جہاں فیکٹریاں اور پلانٹس کی تعمیر عروج پر ہے۔
تاہم اس اعلان کی روشنی میں امریکی سپریم کورٹ کا کردار بھی اہم ہے جہاں عدالت ٹرمپ کی نافذ کردہ تجارتی ٹیرف پالیسی کے قانونی جواز کا جائزہ لے رہی ہے اور اس ہفتے کی سماعت میں ججز نے اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے جو ٹرمپ کی پالیسی کو ایک بڑا چیلنج ہے۔ غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کئی نچلی عدالتیں پہلے ہی بعض ٹیرف کو غیر قانونی قرار دے چکی ہیں جو اس آمدنی کی بنیاد کو کمزور کر سکتی ہیں اور ٹرمپ کی تجویز کو عملی شکل دینے میں رکاوٹ بن سکتی ہیں مگر وائٹ ہاؤس نے اس سماعت میں ٹیرف کی قانونی حیثیت کا دفاع کیا ہے جو اس پالیسی کی بقا کی لڑائی ہے۔ یہ قانونی جھنجھوٹ ٹرمپ کی اقتصادی حکمت عملی کی آزمائش ہے جہاں ٹیرف کی کمائی کو عوامی فلاح سے جوڑنے کا خواب سپریم کورٹ کے فیصلے پر منحصر ہے جو آنے والے دنوں میں واضح ہوگا۔
ٹرمپ کی ٹیرف ڈیویڈنڈ پالیسی اور اس کے اقتصادی و قانونی اثرات
یہ اعلان ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کی اقتصادی حکمت عملی کی ایک کلیدی جھلک ہے جو ٹیرف کو نہ صرف تجارتی ہتھیار بلکہ عوامی خوشحالی کا ذریعہ بنا دیتی ہے مگر اس کی کامیابی قانونی جواز اور بجٹ کی حدود پر منحصر ہے جہاں سپریم کورٹ کی سماعت ٹیرف کی آئینی حیثیت کو چیلنج کر رہی ہے اور نچلی عدالتوں کی تنقید اسے کمزور کر سکتی ہے۔ ایک طرف تو 2 ہزار ڈالر کی تقسیم عوام میں فوری ریلیف لائے گی اور قومی قرض کی ادائیگی سے معاشی استحکام کو تقویت دے گی مگر دوسری طرف ٹریژری سیکریٹری کی وضاحت کہ یہ ٹیکس رعایت کی شکل میں آ سکتا ہے یہ ظاہر کرتی ہے کہ براہ راست چیک کی بجائے بالواسطہ فوائد کو ترجیح دی جائے گی جو سیاسی طور پر محفوظ ہے مگر عوامی توقعات کو پورا کرنے میں تاخیر کا باعث بن سکتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ پالیسی ٹرمپ کی "امریکہ فرسٹ” سوچ کو مضبوط کرتی ہے مگر اس کی کامیابی ٹیرف کی آمدنی کی تسلسل اور عدالت کی منظوری پر منحصر ہوگی ورنہ یہ ایک سیاسی وعدہ بن کر رہ جائے گی جو معاشی عدم استحکام کو جنم دے سکتی ہے۔
عوامی رائے سوشل میڈیا اور نیوز فورمز پر ایک پرجوش لہر کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں ٹرمپ کے حامی اسے ایک بڑی فتح قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ ٹیرف کی کمائی عوام تک پہنچنے سے معاشی ترقی کو تقویت ملے گی اور قرض کی ادائیگی سے مستقبل محفوظ ہو جائے گا جبکہ مخالفین خاص طور پر ڈیموکریٹس یہ خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ یہ وعدہ ٹیرف کی مہنگائی کو بڑھا دے گا اور سپریم کورٹ کی تنقید اس کی بنیاد ہلا دے گی۔ کچھ صارفین ٹیکس رعایت کی شکل کو پسند کر رہے ہیں جبکہ دیگر براہ راست چیک کا مطالبہ کر رہے ہیں اور مجموعی طور پر امید اور شک کی کشمکش ہے جو ٹرمپ کی مقبولیت کو مزید بڑھا رہی ہے۔
آپ کے خیال میں کیا ٹرمپ واقعی امریکی عوام میں ٹیرف آمدن تقسیم کر پائیں گے یا یہ محض انتخابی حربہ ہے؟
اپنی رائے کمنٹس میں ضرور بتائیں۔
