Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

پاک بھارت معرکے میں آٹھ طیارے گرائے گئے، ٹرمپ کا چونکا دینے والا بیان

میں نے مودی کو کہا، شہباز کو کہا، عاصم منیر کو کہااگر لڑائی جاری رہی تو کوئی معاہدہ نہیں، کوئی ڈالر نہیں
3. پاک بھارت معرکے میں آٹھ طیارے گرائے گئے، ٹرمپ کا چونکا دینے والا بیان

واشنگٹن/نیو یورک : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنے مخصوص “آرٹ آف دی ڈیل” انداز میں دنیا کو حیران کر دیا۔ نیویارک کے ایک پرتعیش بزنس فورم میں، جہاں وہ اپنی دوسری مدت کی کامیابیوں کا ڈھول پیٹ رہے تھے، انہوں نے ہاتھ میں ایک موٹا معاہدہ اٹھایا اور سامعین کو بتایا“میں اس دستاویز پر دستخط کرنے جا رہا تھا، اچانک فون آیاسات یا آٹھ طیارے مار گرائے گئے!”۔ حاضرین کی سانسیں رک گئیں۔ ٹرمپ نے ڈرامائی انداز میں معاہدہ میز پر رکھ دیا اور کہا “میں نے سوچا، اگر یہ دونوں پڑوسی لڑ رہے ہیں تو میں کیوں پیسہ ضائع کروں؟”۔

یہ کوئی فلم کا سین نہیں، بلکہ مئی 2025 کی اس چار روزہ ہوائی جھڑپ کی نئی کہانی تھی جسے ٹرمپ نے “میرا ماسٹر اسٹروک” قرار دے دیا۔ ان کے مطابق، جب انہیں خبر ملی کہ پاک بھارت سرحد پر طیارے گر رہے ہیں، انہوں نے فوراً دونوں دارالحکومتوں کو فون گھمائے۔ “میں نے مودی کو کہا، شہباز کو کہا، عاصم منیر کو کہااگر لڑائی جاری رہی تو کوئی معاہدہ نہیں، کوئی ڈالر نہیں!” 18 گھنٹے بعد، ٹرمپ کے دعوے کے مطابق، دونوں فریقوں نے سیز فائر کر لیا۔ “یہ میری دباؤ کی پالیسی تھی،” انہوں نے فخر سے کہا، “نہ کہ کوئی جادو”۔

جھڑپ کا پس منظر

مئی کی یہ جھڑپ 7 تاریخ کو شروع ہوئی جب بھارت نے آپریشن سندور کے تحت پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں دہشت گرد کیمپوں پر میزائل برسائے۔ پاکستان نے جوابی کارروائی کی، اور چار دنوں میں ہوائی لڑائی ہوئی۔ پاکستان نے چھ بھارتی طیارے (بشمول دو رافیل) مار گرانے کا دعویٰ کیا، بھارت نے خاموشی اختیار کی۔ اب ٹرمپ کا “آٹھ” والا نیا نمبر سامنے آیا ہے، جو دونوں فریقوں کے دعوؤں سے الگ ہے۔

ٹرمپ نے فورم میں ایک ویڈیو کلپ چلایا جس میں ان کی کالز کے مبینہ آڈیو سنائے گئےایک طرف مودی کی “سر، ہم کنٹرول کر رہے ہیں” والی آواز، دوسری طرف پاکستانی قیادت کی “ہم امن چاہتے ہیں” والی۔ حاضرین نے تالیاں بجائیں، مگر بھارتی سفارت خانے نے فوری تردید کی“یہ تنازعہ دو طرفہ سفارت کاری سے حل ہوا، کوئی تیسرے فریق کا کردار نہیں”۔

پاکستانی ردعمل

اسلام آباد میں سرکاری ذرائع نے ٹرمپ کے بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، مگر نجی طور پر ایک سینئر افسر نے کہا: “اگر ٹرمپ صاحب آٹھ کہہ رہے ہیں تو ہمارے پائلٹس نے ضرور کچھ اضافی کام کیا ہوگا”۔ آرمی چیف عاصم منیر نے اپنی حالیہ تقریب میں بالواسطہ طور پر کہا: “ہمارے دشمنوں کو پتہ ہے کہ ہماری طاقت کیا ہے”۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر #TrumpSavedSouthAsia اور #EightDown ٹرینڈ کر رہے ہیں۔

  • کراچی کا ایک طالب علم: “ٹرمپ نے 8 کہہ دیا، اب بھارت کیا کہے گا؟”
  • دہلی کی ایک خاتون: “ہماری فوج خود کافی تھی، ٹرمپ کو کریڈٹ کی ضرورت نہیں!”
  • ایک پاکستانی میم پیج: ٹرمپ کو سپرمین کی طرح دکھایا گیا جو دو جوہری بموں کے درمیان کھڑا ہے۔ٹرمپ کا یہ دعویٰ پاک بھارت تنازعہ پر امریکی مداخلت کی ایک نئی داستان رقم کرتا ہے جہاں آٹھ طیاروں کا ذکر تنازعہ کی شدت کو بڑھا رہا ہے البتہ بھارت کی تردید اسے ایک سیاسی بیان بنا دیتا ہے جو ٹرمپ کی خود نمائی کی عادت کو ظاہر کرتا ہے اور سفارتی حقیقت سے دور لگتا ہے جہاں دونوں ممالک نے خودمختار طور پر بات چیت کی تھی۔ یہ بیان جنوبی ایشیا کی سیاست کو متاثر کر سکتا ہے جہاں ٹرمپ کی دباؤ کی بات پاکستان کے لیے تو خوش آئند لگتی ہے لیکن بھارت کی نفی سے تعلقات میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے جو عالمی سطح پر امریکی اثر و رسوخ کو چیلنج کرتی ہے۔ عوامی سطح پر ردعمل مخلوط ہے جہاں سوشل میڈیا پر پاکستانی صارفین جیسے @PeaceLoverPK لکھتے ہیں کہ ٹرمپ کی مداخلت نے واقعی امن لایا تھا بھارت کی تردید محض بہانہ ہے اور @IndiaFirstVoice کہتے ہیں کہ ہمارا تنازعہ ہمارا تھا ٹرمپ کی کہانیاں جھوٹی ہیں۔ بھارتی صارفین جیسے @DesiPatriot نے تنقید کی کہ ٹرمپ کی خود پسندی کی حد ہے ہم نے خود حل کیا جبکہ امریکی صارفین جیسے @TrumpFanUSA نے حمایت کی کہ صدر نے جنگ روکی بہت بڑا کام کیا۔ یہ آراء سیاسی تقسیم کو ظاہر کرتی ہیں جو ٹرمپ کے بیان کو ایک متنازع موضوع بنا رہے ہیں اور اگر مزید تفصیلات سامنے آئیں تو یہ دعویٰ مزید گرم ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ کا یہ بیان ان کی “پیس میکر” تصویر کو پالش کرنے کی ایک اور کوشش ہے، لیکن اعداد و شمار کا تضاد (6، 7، اب 8) ان کی بات کو مشکوک بناتا ہے۔ حقیقت میں، مئی کی جھڑپ دو طرفہ سفارتی چینلز اور چین کی ثالثی سے رکی ٹرمپ کی کالز نے شاید دباؤ بڑھایا، مگر فیصلہ دونوں دارالحکومتوں نے خود کیا۔

بھارت کی تردید اسے واضح کرتی ہے کہ نئی دہلی ٹرمپ کی “بچانے والا” کہانی نہیں مانتا۔ پاکستان کے لیے یہ سفارتی پوائنٹ ہےٹرمپ کا بیان بالواسطہ طور پر پاک فضائیہ کی برتری کی تائید کرتا ہے۔

آگے چل کر، اگر ٹرمپ نے واقعی 18 گھنٹے میں جنگ روکی تو یہ ان کی سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہے۔ لیکن اگر یہ محض مبالغہ آرائی ہے تو جنوبی ایشیا کے ووٹرز—خاص طور پر نیویارک کے جنوب ایشیائی کمیونٹی اسے یاد رکھیں گے۔ ٹرمپ کا “آٹھ” والا دعویٰ شاید 2026 مڈٹرمز میں واپس آئے، جب ووٹر پوچھیں گے“سر، وہ آٹھ طیارے کہاں گئے؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں