امریکی شہر نیویارک کی تاریخ میں ایک نئی باب کی ابتدا ہو گئی ہے جہاں 34 سالہ مسلمان اور ڈیموکریٹک سوشلسٹ امیدوار ظہران ممدانی نے میئر کے انتخابات میں شاندار کامیابی حاصل کر کے شہر کی تقدیر بدلنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ یہ فتح نہ صرف ایک نوجوان کی جدوجہد کی کامیابی ہے بلکہ امریکی سیاست میں تنوع اور ترقی پسندی کی ایک زندہ مثال بھی بن گئی ہے جو برسوں سے جاری روایتی ڈائنامکس کو چیلنج کر رہی ہے۔ ممدانی کی جیت نے نیویارک کو ایک ایسے لیڈر کی طرف لے جانے کا وعدہ کیا ہے جو شہر کی معاشی اور سماجی مسائل کو جڑ سے حل کرنے کا خواب دیکھتا ہے اور اسے حقیقت کا روپ دینے کو تیار ہے۔
انتخابات میں شاندار کارکردگی
اب تک موصول ہونے والے نتائج کے مطابق ظہران ممدانی نے 49.6 فیصد ووٹوں کا حصول کر کے اپنے قریبی حریف سابق نیویارک گورنر اینڈریو کوومو کو 41.6 فیصد ووٹوں کے ساتھ پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ کوومو جو ایک تجربہ کار سیاستدان کے طور پر جانے جاتے تھے ان کی مہم کو ریپبلکن امیدوار کرٹس سلوا کی موجودگی نے مزید نقصان پہنچایا جو دو ہندسوں میں ووٹ حاصل کرتے رہے اور بالواسطہ طور پر ووٹوں کو تقسیم کر کے ممدانی کے لیے راہ ہموار کر دی۔ ڈیسک ایچ کیو نے سب سے پہلے ممدانی کی جیت کی اطلاع دی جس کے بعد شہر بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور ان کے حامیوں نے بروکلن میں ایک بڑی جشن کی تقریب کا اہتمام کیا جہاں ہزاروں لوگوں نے ان کی فتح کا جشن منایا۔
یہ انتخابات امریکی ریاستی اور مقامی سطح پر ہونے والے دیگر ووٹنگ ایونٹس کا حصہ تھے جہاں لاکھوں شہریوں نے حصہ لیا اور 1969 کے بعد پہلی بار 2 ملین سے زیادہ افراد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا جو جمہوری عمل کی مضبوطی کی علامت ہے۔ ورجینیا میں بھی ڈیموکریٹ امیدوار ایبیگیل اسپینبرگر نے گورنر کے انتخابات میں ریپبلکن ونسوم ارلسیئرز کو شکست دے دی جو اس دن کی دیگر کامیابیوں کا حصہ بنی۔ ممدانی کی یہ فتح ان کی جون میں ہونے والی ڈیموکریٹک پرائمری کی جیت کا تسلسل ہے جہاں انہوں نے کوومو کو پہلے ہی شکست دی تھی اور پھر جنرل الیکشن میں انہیں آزاد امیدوار کے طور پر شکست فاش کرنے میں کامیاب رہے۔
ممدانی کا انتخابی منشور
ظہران ممدانی نے اپنی انتخابی مہم کے دوران ایسے وعدے کیے جو نیویارک کے عام شہریوں کی زندگیوں کو براہ راست متاثر کرنے والے ہیں اور انہیں ترقی پسند حلقوں میں ایک ہیرو کی حیثیت سے پیش کیا ہے۔ انہوں نے کرایوں کو منجمد کرنے کا اعلان کیا تاکہ شہر کی آسمان چھوتی کرایوں سے تنگ شہریوں کو راحت مل سکے اور رہائش کو ایک بنیادی حق کی طرح یقینی بنایا جائے۔ اس کے علاوہ شہر کے زیر انتظام گروسری اسٹورز قائم کرنے کا منصوبہ پیش کیا جو غذائی تحفظ کو فروغ دے گا اور غریب طبقوں کو سستے داموں پر اشیائے خوردنیز دستیاب کروائے گا۔ مفت بس سروس کا وعدہ بھی ان کی مہم کا اہم حصہ تھا جو ٹرانسپورٹ کی لاگت کو ختم کر کے شہریوں کی روزمرہ زندگی کو آسان بنائے گا اور ماحولیاتی تحفظ کی طرف بھی ایک قدم ہوگا۔
یہ وعدے ممدانی کو ایک ایسے لیڈر کے طور پر متعارف کراتے ہیں جو شہر کی معاشی عدم مساوات کو دور کرنے پر مرکوز ہے اور ان کی مہم نے ہزاروں رضاکاروں کو متحرک کیا جو شہر کی گلیوں میں گھوم گھوم کر لوگوں تک ان کا پیغام پہنچاتے رہے۔ ممدانی جو یوگنڈا میں پیدا ہوئے اور نیویارک میں پرورش پائے انہوں نے اپنی ذاتی کہانی کو مہم کا حصہ بنایا اور شہر کی متنوع آبادی کو متحد کرنے کی کوشش کی جو ان کی فتح کی بنیاد بنی۔
متنازع بیانات اور بین الاقوامی موقف
ممدانی کی مہم کے دوران ان کے کچھ بیانات نے بھی سرخیاں بنائیں خاص طور پر غزہ تنازعہ پر ان کا موقف جو انہیں ایک بہادر آواز کے طور پر پیش کرتا ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر غزہ میں نسل کشی کا الزام لگایا اور کہا کہ اگر اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو نیویارک آئیں تو ان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جائیں جو ان کی خارجہ پالیسی کی جھلک دکھاتا ہے۔ یہ بیانات ترقی پسند گروپوں میں تو خوش آمدید تھے لیکن ریپبلکن حلقوں میں تنقید کا باعث بنے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان پر کئی مواقع پر حملے کیے۔
ٹرمپ نے چند روز قبل ہی دھمکی دی تھی کہ اگر ممدانی جو ایک ڈیموکریٹک سوشلسٹ ہیں آزاد امیدوار اینڈریو کوومو اور ریپبلکن کرٹس سلوا کو شکست دے کر جیت جاتے ہیں تو وہ نیویارک سٹی کی وفاقی فنڈنگ کو روک دیں گے جو ممدانی کی فتح کے بعد ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ممدانی نے اس دھمکی کا جواب دیا کہ وہ شہر کی حفاظت کے لیے ٹرمپ کے خلاف کھڑے ہوں گے اور نیویورک کو سیاسی اندھیروں میں روشنی کا مینار بنائیں گے۔
کوومو کی مہم کی ناکامی
دوسری جانب سابق گورنر اینڈریو کوومو کی مہم جو ریاست اور اس کے باہر کے اہم ڈیموکریٹس سے حمایت حاصل کر رہی تھی ایک مضبوط حریف کے طور پر سامنے آئی تھی لیکن ان پر جنسی ہراسانی کے الزامات اور کووڈ-19 کی وبا کے دوران نرسنگ ہومز میں ہونے والی اموات پر مبینہ بدانتظامی کے الزامات نے ان کی راہ میں بڑی رکاوٹ ڈال دی۔ کوومو جو 2021 میں گورنر کے عہدے سے استعفیٰ دینے پر مجبور ہوئے تھے انہوں نے آزاد امیدوار کے طور پر دوبارہ کوشش کی لیکن ممدانی کی عوامی حمایت اور ترقی پسند لہر نے انہیں پیچھے دھکیل دیا۔ سلوا کی موجودگی نے ووٹوں کو مزید تقسیم کیا جو ممدانی کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی اور یہ تین کونڈ امیدواروں والی دوڑ کو ایک دلچسپ موڑ دیا۔
فتح کا جشن اور مستقبل کی راہیں
ممدانی کی فتح کے اعلان کے بعد بروکلن پیراماؤنٹ میں ان کے حامیوں نے ہنگامہ خیز جشن منایا جہاں ڈی جے نے نیویارک کے مشہور ہپ ہاپ گانوں کو ریمیکس کر کے ماحول کو مزید گرم کر دیا اور لوگوں نے "زہران زہران” کے نعرے لگا کر اپنی خوشی کا اظہار کیا۔ ممدانی نے اپنے فتح کے خطاب میں کہا کہ ہم نے ایک سیاسی سلطنت کو ختم کر دیا ہے اور نیویارک کو مزید سستا اور قابل رہائش بنانے کا وعدہ کیا جو شہر کی آبادی کو نئی امید دے رہا ہے۔ یہ فتح نہ صرف ممدانی کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ ڈیموکریٹک پارٹی میں نسلی تبدیلی کی علامت بھی ہے جہاں ایک جنوبی ایشیائی نژاد مسلمان پہلی بار شہر کا میئر بن گیا ہے اور ایک صدی کے بعد سب سے کم عمر امیدوار نے یہ عہدہ حاصل کیا ہے۔
امریکی سیاست میں تنوع کی نئی لہر اور عوامی جذبات
ظہران ممدانی کی یہ تاریخی جیت امریکی سیاست میں ایک نئی فصل کا آغاز کرتی ہے جہاں ترقی پسند آوازیں اب روایتی طاقتوں کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں آ گئی ہیں اور نیویارک جیسے عظیم شہر میں معاشی انصاف اور سماجی برابری کی جدوجہد کو نئی توانائی مل گئی ہے۔ ممدانی کا منشور جو کرایوں کی منجمدگی اور مفت ٹرانسپورٹ جیسے عملی اقدامات پر مبنی ہے شہر کی 8.5 ملین آبادی کو براہ راست فائدہ پہنچا سکتا ہے خاص طور پر غریب اور اقلیتی برادریوں کو جو برسوں سے لاگت کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ تاہم ٹرمپ کی فنڈنگ روکنے کی دھمکی ایک بڑا خطرہ ہے جو ممدانی کی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے میں رکاوٹ بن سکتی ہے اور اس سے وفاقی سطح پر تنازعات بڑھ سکتے ہیں جو امریکی سیاست کو مزید قطبی بنائیں گے۔ عوامی سطح پر ردعمل انتہائی پرجوش ہے جہاں سوشل میڈیا پر صارفین جیسے @NYCProgressive لکھتے ہیں کہ "زہران کی فتح نیویارک کی نئی صبح ہے ترقی پسندی کی جیت ہوئی” اور @QueensVoter کہتے ہیں کہ "پہلا مسلمان میئر ہونے کی خوشی اور اس کی فلسطین پر پوزیشن نے دل جیت لیا”۔ دوسرے صارفین جیسے @CuomoSupporter نے مایوسی کا اظہار کیا کہ "کوومو کی ہار الزامات کی وجہ سے ہوئی ورنہ تجربہ جیتتا” جبکہ @GOPNY نے تنقید کی کہ "ٹرمپ کی دھمکی درست تھی اب شہر کا کیا ہوگا”۔ یہ جذبات ممدانی کی مقبولیت کی گواہی دیتے ہیں جو نوجوان اور اقلیتی ووٹرز میں خاص طور پر مضبوط ہے اور یہ جیت ڈیموکریٹک پارٹی کے مستقبل کو روشن کر سکتی ہے اگر ممدانی اپنے وعدوں پر عمل کر سکیں۔
اس پر آپ کی کیا رائے ہے کمنٹ میں بتائیں
