راولپنڈی : پاکستان کی مسلح افواج کے ترجمان نے بھارت کو ایک بار پھر کھری کھری سنا دی ہے، جہاں راولپنڈی میں سینئر صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے انکشاف کیا کہ ہمسایہ ملک گہرے سمندر کی گہرائیوں میں ایک نئی سازش بُن رہا ہے۔ ان کے الفاظ میں، "بھارت ایک اور فالس فلیگ آپریشن کی تیاریوں میں مصروف ہے، جو سمندری راستوں سے پاکستان پر الزام تراشی کا بہانہ بن سکتا ہے۔” یہ بیان نہ صرف خطے کی کشیدگی کو مزید ہوا دے رہا ہے بلکہ پاک فوج کی چوکس تیاریوں کی عکاسی بھی کرتا ہے، جو کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کو تیار ہے۔
لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ پاک فوج کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں جو بھارتی منصوبہ بندی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کو زمینی سرحدوں، ہوائی حدود اور اب سمندری حدود میں جو مرضی کرنا ہو کر لے، مگر اس بار پاکستان کا ردعمل ماضی کی نسبت کہیں زیادہ سخت اور فیصلہ کن ہوگا۔ "بھارت جان لے، ہماری فورسز مکمل الرٹ ہیں اور کسی بھی جھوٹے بیانیے کو ناکام بنانے کے لیے تیار۔” یہ الفاظ پاک فوج کی نئی حکمت عملی کی جھلک دکھاتے ہیں، جو ہائبرڈ وارفیئر اور سائبر خطرات سے لے کر روایتی جنگ تک ہر محاذ پر برتری رکھتی ہے۔
یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب بھارت کی تری سروسز مشق "ترشول” جاری ہے، جو بحری، فضائی اور زمینی افواج کی مشترکہ طاقت کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے اشارہ دیا کہ یہ مشقیں محض ڈرل نہیں بلکہ ممکنہ جارحیت کی ریہرسل ہو سکتی ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاک بحریہ کی گہرے سمندر میں نگرانی بڑھا دی گئی ہے، جہاں جدید سبمرینز اور سرویلنس سسٹم کسی بھی مشکوک حرکت کو فوری پکڑنے کے لیے فعال ہیں۔ صحافیوں کو بریفنگ کے دوران دکھائی گئیں خفیہ رپورٹس میں بھارتی بحری جہازوں کی غیر معمولی نقل و حرکت کا ذکر تھا، جو عرب سمندر سے خلیج بنگال تک پھیلا ہوا ہے۔
ترجمان نے افغان طالبان کے الزامات کا بھی کھل کر جواب دیا، کہتے ہوئے کہ پاکستان نے کبھی امریکی ڈرونز کو افغانستان پر حملوں کی اجازت نہیں دی۔ ان کا کہنا تھا کہ پاک فوج نے سرحد پار دہشت گردوں کو کئی بار نیست نابود کیا، جن میں افغان شہری بھی شامل تھے۔ یہ بیان دوحا مذاکرات میں پیش کیے گئے شواہد کی بنیاد پر تھا، جو اب صحافیوں کے سامنے بھی رکھے گئے۔ لیفٹیننٹ جنرل چوہدری نے زور دیا کہ پاکستان امن کا داعی ہے مگر اپنی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
پاکستان کی پیشگی حکمت عملی
یہ بیان پاک بھارت تعلقات میں ایک نازک موڑ کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں فالس فلیگ آپریشنز کی تاریخ کو دیکھتے ہوئے پاک فوج کی پیشگی وارننگ ایک ماسٹر سٹروک ہے۔ بھارت کی تری سروسز مشق "ترشول” کو پاکستانی انٹیلی جنس "اسٹریٹجک پریشان کن” قرار دے رہی ہے، جو ٹی ٹی پی حملوں اور بلوچ بغاوت کے تناظر میں پاکستان کی اندرونی کمزوریوں کا فائدہ اٹھانے کی کوشش لگتی ہے۔ پاک فوج کا "شدید جواب” کا وعدہ نہ صرف دفاعی پالیسی کی تبدیلی بلکہ نیوکلیئر تھریش ہولڈ کو بھی چیلنج کرتا ہے۔ یہ صورتحال خطے کے امن کو داؤ پر لگا رہی ہے، جہاں ایک چھوٹی چنگاری بڑی جنگ بھڑکا سکتی ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ عالمی برادری، خاص طور پر اقوام متحدہ اور او آئی سی کو شواہد پیش کرے تاکہ بھارتی سازش کو بے نقاب کیا جا سکے۔ مجموعی طور پر، یہ بیان پاک فوج کی پروفیشنل ازم اور قومی عزم کی علامت ہے، جو دشمن کو نفسیاتی دباؤ میں رکھتا ہے۔
عوامی رائے
سوشل میڈیا پر پاکستانیوں کا جوش دیدنی ہے، جہاں #PakistanZindabad اور #DGISPR ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ ایک صارف نے لکھا "بھارت کو سمندر میں دفن کر دیں گے، پاک فوج زندہ باد!”، جبکہ دوسرے نے کہا "ترجمان صاحب نے دل کی بات کہہ دی، اب عمل کا وقت”۔ کئی لوگ بھارتی مشقوں پر تنقید کر رہے ہیں کہ "یہ امن نہیں، جنگ کی تیاری ہے”۔ افغان الزامات پر بھی بحث گرم ہے، لوگ کہہ رہے ہیں "طالبان کو سبق سکھائیں”۔ مجموعی طور پر، عوام میں قومی جذبہ عروج پر ہے اور فوج پر مکمل بھروسہ۔
اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں!
