Our website use cookies to improve and personalize your experience and to display advertisements(if any). Our website may also include cookies from third parties like Google Adsense, Google Analytics, Youtube. By using the website, you consent to the use of cookies. We have updated our Privacy Policy. Please click on the button to check our Privacy Policy.

ترکیہ کے مغربی ساحلی علاقوں میں 6.1 شدت کا زلزلہ عمارتیں لرز اٹھیں، خوف و ہراس کی فضا

زلزلے کے فوری بعد سندرگی میں کئی پرانی عمارتوں کی دیواریں گر گئیں، چھتیں دھنس گئیں اور سڑکوں پر ملبہ بکھر گیا
ترکیہ کے مغربی ساحلی علاقوں میں 6.1 شدت کا زلزلہ عمارتیں لرز اٹھیں، خوف و ہراس کی فضا

ترکیہ کے مغربی ساحلی علاقوں میں آج صبح ایک طاقتور زلزلہ آیا جس نے کئی شہروں کو ہلا کر رکھ دیا۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 6.1 تھی اور اس کا مرکز بالیکسیر صوبے کے چھوٹے سے قصبے سندرگی کے قریب، زمین سے صرف 6 کلومیٹر کی گہرائی میں تھا۔ یہ کم گہرائی زلزلے کی تباہ کاریوں کو مزید شدید بناتی ہے کیونکہ جھٹکے سطح پر براہ راست پہنچتے ہیں۔

زلزلے کے فوری بعد سندرگی میں کئی پرانی عمارتوں کی دیواریں گر گئیں، چھتیں دھنس گئیں اور سڑکوں پر ملبہ بکھر گیا۔ مقامی حکام نے بتایا کہ کچھ مکانات مکمل طور پر تباہ ہوئے جبکہ متعدد دیگر کو جزوی نقصان پہنچا۔ خوش قسمتی سے ابتدائی رپورٹس میں کسی جانی نقصان کا ذکر نہیں، البتہ امدادی ٹیمیں ابھی بھی متاثرہ علاقوں کا جائزہ لے رہی ہیں۔

جھٹکوں کی لہر استنبول کے گنجان آباد علاقوں، بورصہ کی صنعتی بستیوں، مانیسا کے زرعی میدانوں اور ازمیر کے ساحلی شہروں تک پھیل گئی۔ استنبول میں دفاتر اور اسکولوں سے لوگ چیختے چلاتے باہر نکلے، ٹریفک جام ہو گیا اور موبائل نیٹ ورکس پر بوجھ بڑھ گیا کیونکہ ہر کوئی اپنے پیاروں سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ازمیر میں سمندر کنارے کیفے اور ریستورانوں سے شہری سڑکوں پر دوڑتے نظر آئے۔

یہ زلزلہ اگست میں اسی علاقے میں آنے والے 6.1 شدت کے جھٹکوں کی یاد تازہ کر گیا، جس میں ایک شخص ہلاک اور کئی درجن زخمی ہوئے تھے۔ لیکن 2023 کے تباہ کن زلزلے کا سانحہ ابھی تک ترکیہ کے اجتماعی شعور میں زندہ ہے، جب جنوب مشرقی علاقوں میں 7.8 اور 7.6 شدت کے دو بڑے زلزلوں نے 55 ہزار سے زائد جانیں لے لیں، لاکھوں بے گھر ہوئے اور اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔

2023 کا تباہ کن زلزلہ

 پاکستان کے وقت سے رات گئے، جب لوگ اپنی رات کی نیند میں گم تھے، تو 6 فروری 2023 کی صبح سویرے ترکیہ کے جنوب مشرقی علاقے میں ایک ہولناک زلزلہ آیا جس نے پوری دنیا کو ہلا دیا۔ یہ قدرتی آفت نہ صرف ترکیہ کے 11 صوبوں کو اپنی لپیٹ میں لے گئی بلکہ شام کے شمالی اور مغربی علاقوں کو بھی بری طرح متاثر کیا، جہاں پہلے ہی خانہ جنگی کی تباہیوں نے لوگوں کو کمزور کر دیا تھا۔ امریکی جیولوجیکل سروے (USGS) کے مطابق، زلزلے کی شدت 7.8 تھی، جو ترکیہ کی تاریخ کا سب سے شدید زلزلہ تھا – اس سے پہلے 1939 کے ارزنجان زلزلے کی برابری کا۔ اس کی لمبائی تقریباً 300 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی تھی، اور یہ سٹرک سلپ قسم کا تھا، جس نے زمین کو 65 سیکنڈ تک ہلایا، عمارتیں نگل لیں اور سڑکیں پھاڑ دیں۔

زلزلہ کا مرکز غازی انتپ شہر سے 37 کلومیٹر مغرب شمال مغرب میں تھا، جہاں سے جھٹکے انتاکیا، ہاتای، ملاطیا، اڈی یامان اور دیگر شہروں تک پہنچے۔ صبح 4:17 بجے (مقامی وقت) جب زلزلہ آیا، تو زیادہ تر لوگ گھروں میں تھے، جو اس کی تباہ کاریوں کو مزید بڑھا دیا۔ صرف 11 منٹ بعد ایک 6.7 شدت کا ایفٹرشاک آیا، اور نو گھنٹے بعد دوسرا بڑا جھٹکا 7.5 شدت کا، جو مرکز سے 90 کلومیٹر شمال میں تھا۔ ان دونوں بڑے زلزلوں کے درمیان 570 سے زائد ایفٹرشاکز آئے، اور مئی 2023 تک 30 ہزار سے زیادہ ریکارڈ ہوئے، جو علاقے کو مزید خوفزدہ کرتے رہے۔

انسانی اور مادی نقصانات

یہ زلزلہ ترکیہ کی جدید تاریخ کا سب سے مہلک قدرتی حادثہ ثابت ہوا۔ ترکیہ میں 53,537 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ شام میں 5,951 سے 8,476 تک ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی۔ کل اموات 59 ہزار سے تجاوز کر گئیں، جو 526 عیسوی کے انتاکیا زلزلے کے بعد ترکیہ کی سب سے بڑی تباہی تھی۔ لاکھوں زخمی ہوئے، اور 13 ملین سے زائد لوگ براہ راست متاثر ہوئے – جن میں سے بہت سے بے گھر ہو گئے۔ شام میں، جہاں پہلے ہی 4 ملین سے زائد شہری جنگ زدہ کیمپوں میں رہ رہے تھے، یہ آفت امداد کی رسائی کو مزید مشکل بنا دیا۔

مادی نقصانات کی بات کریں تو ہزاروں عمارتیں، پل اور سڑکیں تباہ ہو گئیں۔ صرف ہاتای صوبے میں ایک دہائی کی تعمیراتی صلاحیت برابر کی عمارتیں مٹی کا ڈھیر ہو گئیں۔ اقوام متحدہ کی ترقیاتی پروگرام (UNDP) کے مطابق، 1999 کے آئزمیت زلزلے کے مقابلے میں 10 گنا زیادہ ملبہ پیدا ہوا – کئی سو ملین ٹن، جس میں سے کچھ زہریلا بھی تھا، جس کی صفائی ایک بہت بڑا چیلنج بن گیا۔ معیشت کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا، اور صوبوں میں ہنگامی حالت اعلان کر دی گئی۔

امدادی کارروائیاں فوری شروع ہوئیں، لیکن برف باری، بریک آنے والی سڑکوں اور مواصلاتی خرابیوں نے رکاوٹیں ڈالیں۔ ترکیہ کی فوج، ریڈ کراس اور عالمی تنظیموں جیسے ورلڈ ویژن نے سرگرمیاں دکھائیں، جہاں بچوں اور یتیموں کے لیے عارضی کیمپ لگائے گئے۔ ایک سال بعد بھی، بہت سے خاندان خیموں میں رہنے پر مجبور ہیں، جیسا کہ ایک 10 سالہ شامی بچہ محمد، جس نے اپنے والدین اور تین بہن بھائی کھو دیے۔

حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ گھروں میں داخل ہونے سے پہلے عمارتوں کی ساخت کا جائزہ لیں، گیس لائنیں چیک کریں اور کسی بھی مشکوک صورتحال کی فوری رپورٹ کریں۔ ترکیہ کی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (AFAD) کی ٹیمیں سندرگی میں کیمپ لگا چکی ہیں جہاں عارضی رہائش، خوراک اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

عوامی ردعمل اور سوشل میڈیا

سوشل میڈیا پر #BalikesirDeprem اور #TurkiyeDeprem ٹرینڈ کر رہے ہیں۔ استنبول کی ایک طالبہ عائشہ نے لکھا: "میں کلاس روم میں تھی، اچانک سب کچھ ہلنے لگا۔ سب چیخنے لگے، باہر نکلے تو دل ابھی تک دھڑک رہا ہے۔” سندرگی کے ایک دکاندار احمد یلدز نے ویڈیو شیئر کی جس میں ان کی دکان کا سامان زمین پر بکھرا نظر آ رہا ہے: "اللہ کا شکر ہے کہ کوئی جانی نقصان نہیں، لیکن اب دوبارہ کاروبار شروع کرنے میں مہینے لگ جائیں گے۔”

کچھ صارفین نے حکومت سے پرانی عمارتوں کی ازسرنو جانچ پڑتال کا مطالبہ کیا جبکہ دیگر نے 2023 کے زلزلے کے بعد بننے والے نئے بلڈنگ کوڈز پر عمل درآمد کی بات کی۔

ترکیہ یوریشین اور اناطولیائی پلیٹوں کے سنگم پر واقع ہے، جو اسے دنیا کے زلزلہ خیز خطوں میں شامل کرتا ہے۔ آج کا زلزلہ اگرچہ 2023 جیسا تباہ کن نہیں، لیکن اس کی کم گہرائی اور آبادی والے علاقے میں مرکز ہونے کی وجہ سے خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔ ماہرین کے مطابق مغربی ترکیہ میں مائیکرو پلیٹ موومنٹس کی وجہ سے چھوٹے مگر بار بار زلزلے آتے رہتے ہیں، جو بڑے سانحے کا پیش خبردار ہو سکتے ہیں۔

حکومت نے 2023 کے بعد زلزلہ مزاحمتی عمارتوں کے لیے نئے قوانین نافذ کیے، لیکن دیہی علاقوں اور پرانے شہروں میں عمل درآمد ابھی نامکمل ہے۔ آج کا واقعہ ایک بار پھر یاد دلاتا ہے کہ تیاری اور انفراسٹرکچر کی مضبوطی ہی جانوں کے تحفظ کی ضمانت ہے۔

اس پر آپ کی کیا رائے ہے؟ کمنٹ میں بتائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

متعلقہ خبریں